کیا انار کا جوس دل اور بلڈ پریشر کے لیے واقعی مفید ہے؟

انار کا جوس غذائیت سے بھرپور مشروب ہے اور ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باقاعدہ استعمال بعض افراد میں بلڈ پریشر کم کرنے میں معمولی مگر مثبت کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جن کا بلڈ پریشر پہلے ہی زیادہ ہو۔ ماہرین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر کے علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ دل دوست غذا کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پریوینٹیو کارڈیالوجی کی ماہر غذائیت مشیل روتھنسٹین کے مطابق مختلف کلینیکل ٹرائلز اور مطالعات کے تجزیوں میں دیکھا گیا کہ روزانہ تقریباً 5 سے 8 اونس خالص انار کا جوس پینے سے سسٹولک بلڈ پریشر میں تقریباً 4 سے 8 mmHg تک کمی آ سکتی ہے۔ ایک حالیہ تجزیے میں 130 mmHg سے زیادہ سسٹولک بلڈ پریشر رکھنے والے افراد میں نسبتاً زیادہ کمی دیکھی گئی۔

رجسٹرڈ ڈائٹیشن جینیل کونیل کے مطابق سسٹولک بلڈ پریشر میں پانچ سے دس پوائنٹس تک کمی بھی وقت کے ساتھ دل کے دورے اور فالج کے خطرے میں کمی سے منسلک ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انار کے جوس سے متعلق کئی مطالعات مختصر مدت، کم شرکا اور مختلف مقداروں پر مبنی ہیں، اس لیے نتائج کو ابھی حتمی نہیں کہا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق بعض مطالعات میں انار کے جوس کے اثرات زیادہ نمایاں رہے جبکہ ایک حالیہ تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا کہ اگر طرزِ زندگی میں دوسری تبدیلیاں نہ کی جائیں تو تقریباً دو ماہ بعد اس کا فائدہ ایک سطح پر آ سکتا ہے۔ اسی لیے انار کے جوس کو نمک کم کرنے، ورزش، بہتر نیند اور تجویز کردہ ادویات کے متبادل کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

انار کے جوس میں پولی فینولز سمیت متعدد اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جن میں پیونیکالاگنز اور اینتھوسیاننز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مرکبات خون کی شریانوں کے کام میں بہتری لا سکتے ہیں، آکسیڈیٹو اسٹریس کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور شریانوں کو آرام پہنچا سکتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیونیکالاگنز خون کی شریانوں میں نائٹرک آکسائیڈ کی دستیابی بڑھانے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ نائٹرک آکسائیڈ خون کے بہاؤ اور بلڈ پریشر کو منظم کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہے، اس لیے اس کی بہتر دستیابی صحت مند بلڈ پریشر برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

ممکنہ فائدے کے لیے ماہرین روزانہ تقریباً 5 سے 8 اونس 100 فیصد خالص انار کا جوس تجویز کرتے ہیں۔ بلڈ شوگر میں اچانک اضافے کو کم کرنے کے لیے اسے دہی، خشک میوہ جات یا کسی پروٹین اور صحت مند چکنائی والی غذا کے ساتھ لینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

ذیابیطس کی دوسری قسم کے مریضوں اور بلڈ پریشر، خون پتلا کرنے یا کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کو انار کا جوس باقاعدگی سے پینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق انار کا جوس جگر کے بعض خامروں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جو جسم میں مختلف ادویات کو توڑنے اور جذب کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں