صدر شوکت مرزائیوف نے وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے پہلے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا انعقاد تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے دونوں خطوں کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے صدر یورپی کونسل انتونیو کوسٹا، صدر یورپی کمیشن اُرسلا وان ڈیر لیئن، اور وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس اجلاس کو قدیم شہر سمرقند میں منعقد کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سمرقند صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تبادلوں کا مرکز رہا ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ امیر تیمور نے چھ صدیوں قبل یورپی بادشاہوں سے قریبی تعلقات قائم کیے تھے تاکہ آزادانہ اور محفوظ تجارتی راستے یقینی بنائے جا سکیں۔ اسی طرح وسطی ایشیا کے معروف دانشور، جن میں خوارزمی، فرغانی، بیرونی، ابن سینا، اور الغ بیگ شامل ہیں، نے عالمی سائنس اور فلسفے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جس سے یورپ بھی مستفید ہوا۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ آج کے دور میں بھی وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والی کھلی، تعمیری اور مفید ملاقاتوں نے ثابت کر دیا کہ دونوں خطے ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری اور عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی (EBRD) اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے نمائندوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان مالیاتی اداروں کا کردار اس اجلاس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ آج کے اجلاس کا مرکزی موضوع ‘مستقبل میں سرمایہ کاری’ ہے اور اس حوالے سے ازبکستان کی کوششیں نمایاں ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آٹھ سال قبل ازبکستان اور EBRD کے تعلقات منجمد ہو چکے تھے، مگر آج ازبکستان اس بینک سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک بن چکا ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ اس اجلاس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا میں غیر متوقع اور تیز رفتار تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ جغرافیائی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں، سیکیورٹی مسائل پیچیدہ ہو رہے ہیں، اور عالمی معیشت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کی پیچیدہ مشکلات کو کوئی بھی خطہ تنہا حل نہیں کر سکتا، اس کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ وسطی ایشیا اور یورپی یونین ہمیشہ سے ایک دوسرے کے روایتی شراکت دار رہے ہیں اور مستقبل میں ان کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
صدر مرزائیوف نے یوکرین تنازعے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ پیچیدہ معاملات کو سفارت کاری اور سیاسی بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ آج وسطی ایشیا میں جو ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ چند سال پہلے ناقابل تصور تھی۔ کچھ عرصہ پہلے، خطے کے کئی ممالک کے درمیان سرحدیں بند تھیں، تجارت معطل تھی، اور معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں۔ لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا کی کھلی پالیسی اور تمام شراکت داروں کے ساتھ باہمی فائدے پر مبنی تعاون ہی خطے کی سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ رواں سال ستمبر میں وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کی مشاورتی ملاقات ہوگی، جس میں اہم علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم 54 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے، اور اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چند اہم تجاویز پیش کیں، جن میں شامل ہیں، وسطی ایشیا – یورپی یونین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا قیام، وزارتی سطح پر باقاعدہ ملاقاتوں کا انعقاد، ‘وسطی ایشیا -یورپی یونین’ بین الپارلیمانی تعاون فورم کے قیام کی تجویز، بزنس کمیونٹی کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے ‘وسطی ایشیا – یورپی یونین’چیمبر آف کامرس کا قیام ،سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کثیر الجہتی معاہدے کی تیاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، خاص طور پر خواتین کاروباری شخصیات کی معاونت کے لیے مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ وسطی ایشیا میں ماحولیات کے مسائل سنگین ہو چکے ہیں، اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان نے توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ہیں اور 2030 تک قابل تجدید توانائی کا حصہ 54 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ‘وسطی ایشیا – یورپی یونین کلین انرجی پارٹنرشپ’ کا قیام کیا جائے تاکہ ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر مشترکہ سرمایہ کاری کی جا سکے۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ “Erasmus Plus” پروگرام میں وسطی ایشیائی ممالک کے طلبہ کے لیے مزید مواقع فراہم کیے جائیں اور ازبکستان میں “Horizon Europe” پروگرام کا دفتر قائم کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال بخارا میں پہلا وسطی ایشیا -یورپی یونین سیاحتی فورم منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ “One Travel – Entire Region” کے تصور کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ ایک ہی ویزا کے ذریعے سیاح پورے وسطی ایشیا کی سیر کر سکیں۔
صدر مرزائیوف نے کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، سائبر کرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔
انہوں نے یورپی شراکت داروں کی جانب سے ‘انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ’ کے آغاز کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وسطی ایشیا، افغانستان کی ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
آخر میں، صدر مرزائیوف نے کہا کہ اس اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ‘وسطی ایشیا-یورپی یونین پارٹنرشپ کمیٹی’ قائم کی جائے گی، جس کے اجلاس ہر سال ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس تاریخی نوعیت کا ہے، اور اس کے نتیجے میں وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ہم نے ایک نئی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی ہے، اب ہمیں اسے حقیقت میں بدلنا ہے۔
انہوں نے اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ دونوں خطے مل کر ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی جانب بڑھیں گے۔