ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی کتنی پائیدار؟

ایران اور امریکہ دونوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ حالیہ جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ کی طرف نہیں لوٹنا چاہتے، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی غلط اندازے یا اقدام سے صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔

آٹھ اپریل کی جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی بحری اور فضائی افواج ایران کے قریب موجود ہیں۔ ایران بھی بظاہر اپنی فوجی تیاری برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کی بحالی پر توجہ دے رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو اپنی شرائط ماننے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ خطے میں امریکی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ادھر لبنان بھی اس تنازع کا ایک اہم محاذ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بیروت پر ممکنہ حملوں کی دھمکی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مداخلت کرنا پڑی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیروت پر حملے سے گریز کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش بھی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک متبادل راستوں کے ذریعے توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی بڑے معاہدے کا پہلا مرحلہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ ہدف بھی آسان دکھائی نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں