ایرانی پارلیمنٹ نے جاسوسوں کے لیے سزاؤں میں اضافے کی منظوری دے دی

ایرانی پارلیمنٹ نے ملک میں جاسوسی سے متعلق سزاؤں میں اضافے کی ترمیمی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

اس نئی قانون سازی کے تحت، اگر کوئی شخص دشمن ریاستوں یا گروہوں کے لیے کسی قسم کی انٹیلیجنس یا جاسوسی سرگرمیوں یا آپریشنز میں ملوث پایا گیا، تو اسے سزائے موت سے لے کر جائیداد کی ضبطی تک کی سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

ترمیم شدہ مسودے میں ‘سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل’ کو دشمن ریاستوں اور گروہوں کی شناخت کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ وزارتِ انٹیلیجنس کو ان دشمن نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کو چونکہ پہلے ہی ایران کی جانب سے دشمن ریاست قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے اب کونسل دیگر ممالک یا گروہوں کو بھی دشمن قرار دینے کی مجاز ہوگی۔

اس سے قبل قرارداد میں ‘دشمن ریاست’ یا ‘مخالف گروہ’ کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں تھی، جس پر گارڈین کونسل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے پارلیمنٹ میں دوبارہ بھیجا تھا۔ اب اس کمی کو دور کرتے ہوئے ترمیمی وضاحت شامل کر دی گئی ہے۔
مزید برآں، ترمیم شدہ آرٹیکل میں ایسے افراد کے لیے بھی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جو غیر ملکی نیٹ ورکس یا دشمنوں کو ایسی ویڈیوز یا معلومات فراہم کرتے ہیں جن کا مقصد قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا یا عوام میں انتشار پیدا کرنا ہو۔ ان افراد کو قید، عوامی خدمات سے مستقل برخاستگی، اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس قرارداد کے تحت سزائے موت کے سوا دیگر تمام سزاؤں کے خلاف اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا، جبکہ سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں زیادہ سے زیادہ 10 دن کے اندر اپیل کی جا سکے گی۔

یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ایران کے اندر اسرائیل کی مبینہ انٹیلیجنس اور آپریشنل موجودگی کے حوالے سے کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جنہوں نے ایرانی سرزمین پر ممکنہ دراندازی اور جاسوسی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔

اس نئی قانون سازی پر ملک کے اندر قانونی ماہرین کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندہ نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں