پاک-بھارت کشیدگی: جنگ بندی کیسے ہوئی؟ امریکی صحافی نے بتا دیا

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کیسے ممکن ہوئی؟ اس حوالے سے امریکی صحافی، نک رابرٹسن نے اہم تفصیلات سامنے لائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، کئی روز سے عالمی سطح پر سیز فائر کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، لیکن بھارت کے پاکستان کی ایئر بیسز پر حملے کے بعد حالات سنگین ہوگئے۔

نک رابرٹسن کے مطابق، بھارت کی اس جارحیت کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل حملوں کی بارش کر دی، جس کے نتیجے میں بھارت مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا۔ امریکی صحافی کا دعویٰ ہے کہ، پاکستان کی جانب سے طاقتور اور تسلسل سے کیے گئے میزائل حملوں نے بھارت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ، امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ترک حکام سے رابطہ کیا اور انہی سفارتی رابطوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ممکن ہوا۔

اس پیشرفت کے بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، اسحاق ڈار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ، دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا آغاز شام ساڑھے چار بجے سے ہوا۔ انھوں نے واضح کیا کہ، اگر بھارت دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کرتا ہے تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ اسحاق ڈار کے مطابق، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران وہ خود اور نائب امریکی صدر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے مسلسل رابطے میں تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس پیشرفت کا اعلان کیا اور پاکستان و بھارت کو ہوش مندی پر مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی حملوں کا بھرپور جواب آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دیا تھا، جس میں بھارت کے 10 سے زائد اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آدم پور، ادھم پور، بٹھنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں، سرسہ، برنالہ، اڑی اور ہلوارا جیسے ایئر بیسز اور تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں