غزہ شہر میں موجود تباہ شدہ فلسطین اسٹیڈیم میں چند فٹبالرز اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ آج کل کھیل کی مشق کر رہے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں زیادہ تر وہ نوجوان ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران اپنے اعضا کھو دیے ہیں، مگر وہ آج بھی فٹبال کو زندگی کی ایک امید کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔
یہ کھلاڑی معذور فٹبال ٹیم “غزہ العرادہ” کا حصہ ہیں، جو ایسے افراد پر مشتمل ہے جو مختلف جنگوں اور واقعات میں اپنے اعضا کھو چکے ہیں۔ ان کے لیے فٹبال اب صرف کھیل نہیں بلکہ زندہ رہنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
غزہ شہر میں حالات اس وقت اُس دنیا سے بالکل مختلف ہیں جہاں آنے والے دنوں میں شمالی امریکا میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تیاریاں جاری ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، 24 سالہ علی طفش بھی انہی کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چند سال قبل وہ دوستوں کے ساتھ ورلڈ کپ 2022 دیکھ رہے تھے، مگر آج حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔
علی کے مطابق جنگ کے دوران ان کے گھر پر حملے میں ان کی والدہ اور بھائی جاں بحق ہو گئے جبکہ وہ خود ایک حملے میں زخمی ہو کر اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے۔ طویل علاج اور مشکلات کے بعد انہوں نے دوبارہ فٹبال سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
علی کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ معذوری کے باوجود دو گھنٹے تک بیساکھیوں کے سہارے میدان تک جانا پڑتا ہے، جبکہ کھیل کے بنیادی سامان کی شدید کمی ہے۔
ان کے مطابق، “ہم بہت محدود وسائل میں کھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
ٹیم کے کوچ حاتم المـغریبی کے مطابق جنگ اور محاصرے نے کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی حالت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑی دنیا بھر میں جاری فٹبال مقابلوں کو موبائل فونز پر دیکھنے کی بھی سہولت سے محروم ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ غزہ کے کھلاڑی وہ ماحول محسوس نہیں کر سکتے جو باقی دنیا میں ورلڈ کپ کے دوران ہوتا ہے، کیونکہ یہاں بنیادی سہولیات، بجلی اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے۔
ٹیم کے ایک اور کھلاڑی 40 سالہ سعادی المصری ہیں، جو بچپن میں ایک حادثے میں ٹانگ سے محروم ہوئے۔ وہ ماضی میں فلسطین کی قومی ٹیم کے ساتھ مختلف کھیلوں میں حصہ لے چکے ہیں، جن میں تیراکی اور والی بال شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ غزہ سے باہر جانے پر پابندیاں بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔
سعادی کے مطابق کھیلوں کے میدان مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ان کی بحالی کے بغیر کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی ممکن نہیں۔
فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک غزہ میں کھیلوں کے شعبے سے وابستہ ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں کھیلوں کے مراکز اور اسٹیڈیم یا تو تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 265 کھیلوں کی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، جن میں فٹبال گراؤنڈز، جم، اور دیگر اسپورٹس انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے غزہ میں فٹبال انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس میں چھوٹے گراؤنڈز، بڑے اسٹیڈیم اور فٹبال اکیڈمی کی تعمیر شامل ہے۔
تاہم کھلاڑیوں اور کوچز کے مطابق یہ منصوبے ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
کھلاڑیوں کے مطابق ورلڈ کپ کی تیاریاں دنیا کے دیگر حصوں میں جاری ہیں، جبکہ غزہ میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ بجلی، انٹرنیٹ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث لوگ نہ تو میچز دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کھیلوں کی سرگرمیوں میں پہلے جیسا حصہ لے سکتے ہیں۔
غزہ کے کھلاڑیوں کی خواہش ہے کہ عالمی برادری انہیں نظر انداز نہ کرے اور کھیل کے ذریعے ان کے لیے بھی امید کے دروازے کھلے رہیں۔