آپ اگر کسی کو باؤلنگ کرواتے ہوئے بنظر غور دیکھیں تو آپ کو معلوم پڑے گا کہ باؤلنگ کروانے کا ایکشن قطعی غیر فطری ہوتاہے اور بائولنگ کے بہت سے کمزور پہلو سامنے آتے ہیں۔ مثلاً ایک باؤلر کا باؤلنگ کرواتے ہوئے سارا وزن اس کی کمر پر پڑتا ہے، یا بائولر کو اپنی تیز رفتاری کے اثرات اپنی ٹانگوں اور پاؤں پر جھیلنے پڑتے ہیں۔
میری اس بات کی اگر سمجھ نہیں آرہی تو کسی بھی باؤلر کے ایکشن کی سلو موشن فلم یا ویڈیو دیکھیں۔ جب اس کے پاؤں زمین پر پڑتے ہیں تو زمین کی دھمک اس کے دماغ پر برستی ہے اور اس کا سارا زور کاندھوں پر آن پڑتا ہے اور پھر مسلسل ایک ہی ایکشن سے گیند کروانے سے اس کے جوڑ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیزن میں بیشتر باؤلرز ان فٹ ہو جاتے ہیں۔
میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بائولنگ مارک سے لے کر گیند کی ڈیلیوری تک باؤلرز کو جسمانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونا پڑتا ہے،اس کی ہوس ایک وکٹ ہی تو ہوتی ہے۔ فاسٹ باؤلرز تو اکثر اپنی کمر درد کی وجہ سے ممستقبل کھو بیٹھتے ہیں۔ حالیہ دور میں بھی درجنوں ایسے تیز باؤلر سامنے آئے ہیں جنہیں فٹنس کے مسائل کا سامنا دوسروں سے زیادہ رہا۔ آپ جیمز پیٹنسن یا پیٹ چومنز کی مثال لے لیں۔
اب سوال یہ ہے کہ فٹنس کے یہ ایشوز بار بار کیوں اُٹھتے ہیں۔
کچھ تحقیقاتی مقالے یہ بتاتے ہیں کہ باؤلرز کے ایکشن اور مسلسل ان ایکشن رہنے کی وجہ سے ان کے مہروں کی پوزیشن بدل جاتی ہے۔ ان کی ہڈیاں اپنی جگہ سے سرایت کر جاتی ہیں اور کمر درد کامستقل روگ ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ سب لوگ مسائل کی نشاندہی تو کرتے ہیں لیکن حل کوئی نہیں بتاتا۔ تاہم کچھ رضاکاروں نے اس پر بھی کام کیا ہے اور ان سب کی متفقہ رائے یہ ہے کہ فاسٹ باؤلرز کو خاص طور پر لمبے سپیل یا مسلسل میچز کھیلنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کر کٹ بورڈز کو نئے باؤلرز کی ٹریننگ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان نئے باؤلرز کی ہڈیاں اتنی مضبوط نہیں ہوتیں جتنی کہ پُرانے فاسٹ باؤلرز کی ہوتی تھیں۔ ان کی تکنیک پر بھی غور کرنا ہو گا۔ اس موضوع پر مجھے اپنے ایک پُرانے کوچ کی رائے سے بہت اتفاق ہے۔ جوک کیمبل کہتے ہیں کہ ٹی20- مقابلوں نے کرکٹرز کو تھکا کے رکھ دیا ہے۔ اچھے اور روشن مستقبل کے علاوہ بہتر مالی فائدوں کی وجہ سے نوجوانوں کا رجحان دنیا بھر میں کھیلی جانے والی ٹی20- لیگز کی جانب ہے۔ اس مختصر فارمیٹ کی کرکٹ نے فاسٹ باؤلرز پیدا کرنے کے قدرتی عمل کو روک دیا ہے۔ ٹی20- میں تو باؤلر صرف دو ماہ میں خود کو کوئی بھی لیگ کھیلنے کے لئے تیار کر سکتا ہے۔
جوک کہتے ہیں کہ میری اس بات کو مذاق میں مت ٹالیے، 2013 میں ہمارے پاس بریٹ لی، ڈیرک فنز اور شان ٹائٹ جیسے باؤلر موجود تھے۔ ان باؤلروں نے ٹیسٹ کرکٹ سے سبکدوشی حاصل کی اور اپنے کیرئر کا رُخ ٹی20- لیگز کی طرف موڑ دیا،نتیجہ یہ نکلا کہ قومی ٹیم کو فاسٹ بائولرز کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ نئے باؤلرز کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں وہ کشش دکھائی نہیں دیتی جو ٹی20- میں ہے۔ یہاں پیسہ بھی ہے شہرت بھی اور گلیمر بھی۔ مستقبل میں تیز باؤلرز کی کمی کا مسئلہ سنگین صورتحال کی شکل اختیار کرے گا۔
فاسٹ باؤلنگ کا آرٹ دراصل سٹریس کو ہینڈل کرنے کا آرٹ ہے۔ یہ سٹریس خواہ کارکردگی،جسمانی مسائل یا پھرفٹنس کے ایشوز کا ہو،ہمیشہ ہی سیریس ہوتا ہے، اس پر توجہ دینا ہو گی۔ میں آج کل اپنے نوجوان بیٹے کی فاسٹ باؤلنگ کی تکنیک پر کام کر رہا ہوں۔ میں اس کے لیے قدرے پریشان بھی ہوں۔ اسے پریکٹس میں ہی کئی ایشوز کا سامنا ہے۔ میں جیمز کی عمر میں کرکٹ سے انجوائے کیا کرتا تھا اور میرے بیٹے کو اس عمر میں فٹنس اور اچھی ٹیموں کی جانب سے نہ چنے جانے کے مسائل کا سامنا ہے۔ میرا ایکشن تو بہت ہی کلیئر تھا لیکن جیمز کے ایکشن پر مجھے کئی تحفظات ہیں۔ جب وہ گیند ڈلیور کرتا ہے تو اس کے بازو کی پوزیشن اور پیٹھ کی پوزیشن ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔ اگر اس ہم آہنگی کے لیے کام کیا جائے تو وہ اپنا ایکشن ڈسٹرب کرتا ہے اور باؤلنگ ایکشن میں تبدیلی کا مطلب آپ دوبارہ صفر سے سفر شروع کریں گے۔ یہ کام مشکل ہے کوئی بھی باؤلر اپنی کی گئی محنت کو رائیگاں ہوتا نہیں دیکھ سکتا، اس کے ذہن میں ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ نئے ایکشن کو اختیار کرنے میں وقت لگے گا اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ نیا ایکشن مطلوبہ نتائج دے بھی پائے گا۔
جیمز کی باؤلنگ کا موازنہ اپنی باؤلنگ سے کرؤں تو بہت سے عوامل سامنے آتے ہیں۔ میرے ایکشن کا مطلب یہ تھا کہ میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ نہیں کروا سکتا لیکن بھلے میں یہ سپیڈ نہیں پا سکا لیکن یہ تو ہے کہ میں بریٹ لی اور ڈینس للی کی طرح فٹنس کے مسائل کا شکار نہیں ہوا۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ قدرت نے مجھے بہت سے معاملات میں دوسروں پر فوقیت دے رکھی ہے۔ میں نے جوانی میں بہت زیادہ باؤلنگ نہیں کروائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری ہڈیاں متاثر نہ ہوئیں اور ان میں قدرتی طاقت باقی رہی۔ 1990-91 تک جب میں آسٹریلوی کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہا تھا تو مجھے اپنے ایکشن کے بارے میں یہ جان کاری بھی نہ تھی کہ میرا ایکشن کس سے ملتا جلتا ہے یا میرے ایکشن کے میرٹس اور ڈی میرٹس کیا ہیں۔ مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ میرا ایکشن اتنا غیر فطری نہیں جتنا کہ دوسروں کا ہوتاہے۔
آج جب میں کبھی کبھار کسی چیریٹی مقاصد کے لیے باؤلنگ کرواتا ہوں تو مجھے اپنے کاندھوں میں کچھ درد سی محسوس ہوتی ہے اور میرے سارے باؤلنگ کیرئر میں یہی ایک پرابلم تھی جس کا میں نے سامنے کیا۔ لیکن میں خوش قسمت ہوں کہ اتنے برس گراؤنڈ میں فاسٹ باؤلنگ کرکے بھی میری پیٹھ، گٹھنے اورٹخنے سلامت ہیں۔
میری اس فٹنس کا راز کیا تھا، یہ بھی آپ لوگوں سے شیئر کرتا ہوں۔
(جاری ہے)