پھلوں کا جوس بہتر یا سالم پھل کھائیں، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سالم پھلوں میں موجود قدرتی فائبر نہ صرف نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے بلکہ یہ خون میں شکر کی سطح کو بھی اعتدال میں رکھتا ہے۔ جب پھلوں کا جوس بنایا جاتا ہے تو اس عمل میں زیادہ تر فائبر ضائع ہو جاتا ہے، جس سے پھل میں موجود قدرتی شکر تیزی سے خون میں شامل ہو جاتی ہے اور بلڈ شوگر اچانک بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جوس میں پھلوں کی مٹھاس مرتکز ہو جاتی ہے۔ ایک گلاس جوس بنانے کے لیے عموماً دو سے تین پھل استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی تمام شکر ایک ساتھ جسم میں جاتی ہے۔ یہ چیز وزن میں اضافے اور خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کے برعکس، سالم پھل کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے کیونکہ اسے چبانے میں وقت لگتا ہے اور فائبر کا اثر بھی دیرپا ہوتا ہے، جبکہ جوس پینے سے جلد بھوک دوبارہ محسوس ہوتی ہے۔

اگرچہ جوس اور پھل دونوں میں وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں، لیکن جوس نکالنے کے عمل میں کچھ اہم غذائی اجزا، خاص طور پر وٹامن سی، ضائع ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر بازار میں دستیاب پیک شدہ جوسز میں چینی، فلیورز اور پریزرویٹیو شامل کیے جاتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے مضر ہیں۔

اس کے برعکس، تازہ جوس اگر بغیر چینی کے گھر پر تیار کیا جائے تو اس میں کچھ غذائیت باقی رہتی ہے، مگر پھر بھی ماہرین اسے پھلوں کا نعم البدل نہیں مانتے۔

عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) اور دیگر غذائی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روزمرہ خوراک میں سالم پھلوں کو شامل کیا جائے نہ کہ ان کے جوس کو۔ اگر کبھی کبھار تازہ اور بغیر چینی والا جوس پیا جائے تو وہ الگ بات ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر صحت مند طرزِ زندگی کے لیے سالم پھل ہی بہترین انتخاب ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں