2026 میں تیل کی فراہمی طلب سے 40 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تیل کی پیداوار طلب سے تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ مقدار دنیا کی کل تیل کی کھپت کا تقریباً چار فیصد بنتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا فرق ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوپیک پلس ممالک، جن میں روس اور دیگر اتحادی شامل ہیں، نے اپنی تیل کی پیداوار میں کی گئی کمی کو طے شدہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے منڈی میں تیل کی اضافی سپلائی بڑھ گئی ہے اور قیمتوں میں دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ایجنسی کے مطابق2025 میں تیل کی پیداوار میں 30 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ متوقع ہے، جبکہ پچھلے اندازے میں یہ اضافہ 27 لاکھ بیرل بتایا گیا تھا۔

دوسری جانب، تیل کی طلب میں اضافہ بہت محدود ہے۔ ایجنسی نے بتایا ہے کہ رواں سال تیل کی طلب میں صرف 7لاکھ 10ہزار بیرل یومیہ اضافہ ہو گا، جو پچھلے اندازے سے 30 ہزار بیرل کم ہے۔

آئی ای اے کے مطابق، 2025 اور 2026 دونوں سالوں میں تیل کے استعمال میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ اضافہ تاریخی رجحان کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس کی وجہ عالمی معیشت کی سست رفتاری اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

اوپیک کی رپورٹ کے مطابق، تیل کی طلب میں اضافہ آئی ای اے کے اندازے سے دوگنا ہو سکتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ رواں سال عالمی معیشت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے اور تیل کی طلب میں تقریباً 13 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ممکن ہے۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 62 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئی، جو اپریل 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 58 ڈالر کے قریب ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر 2025 میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کی مقدار میں ایک سو دو ملین بیرل کا اضافہ ہوا، جو کووڈ انیس وبا کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں