چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری ناگزیر ہے اور اسے سہولت کے مطابق استعمال یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق انہوں نے یہ بات ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران کہی، جو ان دنوں چین کے دورے پر ہیں۔
چین اس سے قبل بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے، تاہم شی جن پنگ نے اس معاملے پر کم ہی عوامی بیانات دیے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں اُن جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے جنہیں وہ مخالف ممالک سے تعلق رکھنے والا سمجھتا ہے۔
ادھر امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کر دی ہے، جسے اس نے معاشی دہشت گردی کے جواب میں اقدام قرار دیا ہے۔
اس صورتحال کے باعث خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے خطے میں توانائی تنصیبات پر میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ چین، متحدہ عرب امارات کے ساتھ توانائی، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ابو ظہبی کے ولی عہد نے بھی چین کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد خطے میں عدم استحکام بڑھ گیا ہے، جبکہ عالمی توانائی کی منڈی اور تجارت بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔