مشرق وسطیٰ، جو اپنی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کے باعث دنیا کے اہم خطوں میں سے ایک ہے، گزشتہ چند دہائیوں سے مسلسل تنازعات اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس خطے میں جاری بدامنی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے پیچھے کئی نظریات اور حکمت عملیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، جن میں سے ایک "ینون پلان” ہے۔ یہ پلان، جو 1982ء میں عودید ینون نامی ایک اسرائیلی صحافی اور سابق سرکاری عہدیدار کی تحریر کردہ ایک مضمون پر مبنی ہے، مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
ینون پلان کا آغاز 1982ء میں عبری جریدے "کیونیم” (Kivunim) میں شائع ہونے والے ایک مضمون سے ہوا، جس کا عنوان تھا "1980 کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ایک حکمت عملی”۔ اس مضمون کے مصنف عودید ینون تھے، جن کا تعلق مبینہ طور پر اسرائیلی وزارت خارجہ اور وزیر اعظم ایریل شیرون کے مشیر کے طور پر رہا تھا۔ یہ مضمون مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کو کمزور کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کرتا ہے، جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کی علاقائی بالادستی اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ینون نے دلیل دی کہ عرب ممالک کے قومی اور سماجی ڈھانچوں میں موجود کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اسرائیل کو چاہیے کہ وہ ان ممالک کو نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دے تاکہ وہ کمزور اور منتشر ہوجائیں۔
ینون کے مطابق، عرب دنیا کو ایک ایسی "موزیک” میں تبدیل کر دینا چاہیے جو نسلی اور مذہبی گروہوں پر مشتمل ہو، جہاں ہر گروہ اپنی شناخت کے گرد محدود ہو اور آپس میں تنازعات کا شکار ہو۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عرب ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کیا جائے اور انہیں چھوٹے، کمزور اور باہم متصادم گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ینون نے خاص طور پر لبنان، شام، عراق، اردن اور مصر جیسے ممالک کو اس حکمت عملی کے اہداف کے طور پر نشانہ بنانے کی تجویز دی۔
ینون پلان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کے معاشرتی ڈھانچوں میں موجود لسانی، قبائلی اور مذہبی تنوع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ مشرق وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں عرب، کرد، ترک، ایرانی، سنی، شیعہ، عیسائی، دروز اور دیگر کئی نسلی اور مذہبی گروہ موجود ہیں۔ ینون نے استدلال کیا کہ ان گروہوں کے درمیان تناؤ کو ہوا دے کر، اسرائیل اپنے دشمنوں کو کمزور کر سکتا ہے۔
باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مشرق وسطیٰ میں عربی، کردی، ترکی، فارسی اور دیگر زبانوں کی موجودگی کو ایک تقسیم کا ذریعہ بنایا گیا۔ مثال کے طور پر، عراق اور شام میں کردوں اور عربوں کے درمیان لسانی اور ثقافتی اختلافات کو ابھار کر ان ممالک میں سیاسی استحکام کو نقصان پہنچایا گیا۔ کردوں کی خودمختاری کی تحریکوں کو بعض اوقات مغربی طاقتوں اور اسرائیل کی پشت پناہی حاصل رہی، جس سے ان ممالک میں داخلی تنازعات کو تقویت ملی۔ قبائلی ڈھانچے مشرق وسطیٰ کے کئی معاشروں کی بنیاد ہیں، خاص طور پر یمن، عراق اور لیبیا جیسے ممالک میں۔ ینون پلان نے ان قبائلی ڈھانچوں کے درمیان تناؤ کو بڑھاوا دینے کی تجویز دی تاکہ قومی یکجہتی کو کمزور کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، یمن میں حوثی اور دیگر قبائلی گروہوں کے درمیان تنازعات نے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھا۔ اس کے علاؤہ خاص طور پر سنی اور شیعہ مسلم گروہوں کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ کو بڑھانا ینون پلان کا ایک اہم حصہ ہے۔ عراق اور شام میں سنی-شیعہ تنازعات کو ہوا دینے کے لیے، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے مبینہ طور پر ایسی پالیسیوں کی حمایت کی جو فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، عیسائی اور دیگر اقلیتی گروہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ ان کے اور مسلم اکثریتی آبادی کے درمیان نفرت کو فروغ دیا جائے۔
ان تقسیمات کو فروغ دینے کے لیے، ینون نے تجویز کیا کہ اسرائیل کو عرب ممالک کے اندرونی تنازعات کو ہوا دینی چاہیے، جیسے کہ لبنان کی خانہ جنگی (1975-1990) کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اس پلان میں مصر کو کمزور کرنے کے لیے سینائی جزیرہ نما پر دوبارہ قبضہ کرنے اور وہاں ایک عیسائی قبطی ریاست قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی، جو کہ مصر کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔
ینون پلان پر عمل درآمد کے نتیجے میں، مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں تشدد، جبری نقل مکانی، اور غیر قانونی حراست شامل ہیں۔ کئی انسانی حقوق کی تنظیموں، جیسے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، نے اسرائیل کی پالیسیوں کو فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور ظالمانہ قرار دیا ہے، جن میں سے کچھ کو عالمی قوانین کے تحت "ایپارتھائیڈ” کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں، خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں لیں۔ 2023ء کے حماس حملوں کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں 58,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔ اس کے علاوہ، صحافیوں، طبی کارکنوں اور امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
ینون پلان کا ایک مقصد فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو فروغ دینا تھا، خاص طور پر مغربی کنارے سے اردن کی طرف۔ اس مقصد کے تحت، فلسطینیوں کے لیے نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جو کہ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ غزہ کے محاصرے نے 2.3 ملین فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا، جس سے وہاں انسانی بحران پیدا ہوا۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر انتظامی حراست، بغیر کسی الزام یا مقدمے کے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ سدی تیمن جیسے حراستی کیمپوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد، طبی غفلت، اور جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ینون پلان کو نہ صرف اسرائیل بلکہ اس کے اتحادیوں، خاص طور پر امریکہ، کی پالیسیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ کچھ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملہ اور شام کی خانہ جنگی جیسے واقعات ینون پلان کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان جنگوں نے خطے میں فرقہ وارانہ اور نسلی تنازعات کو ہوا دی، جس سے دولت اسلامیہ (ISIS) جیسی دہشت گرد تنظیموں کا عروج ہوا۔
اس کے علاوہ، ایران اور اس کے اتحادیوں، جیسے کہ حزب اللہ اور حوثیوں، کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بھی خطے میں عدم استحکام کا باعث بنیں۔ ان کارروائیوں نے نہ صرف شہریوں کی جانیں لیں بلکہ خطے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کیا، جو کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک اور پہلو ہے۔
ینون پلان کی حکمت عملی نے مشرق وسطیٰ کے معاشروں میں نفرت اور تقسیم کو فروغ دیا۔ سنی اور شیعہ کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ، کردوں اور عربوں کے درمیان نسلی اختلافات، اور عیسائیوں اور مسلم گروہوں کے درمیان مذہبی تنازعات نے معاشروں کو کمزور کیا۔ اس نفرت نے نہ صرف داخلی تنازعات کو جنم دیا بلکہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو بھی متاثر کیا، جس سے اسرائیل کو اپنی بالادستی قائم کرنے کا موقع ملا۔
ینون پلان، اگرچہ ایک متنازعہ اور مبینہ منصوبہ ہے، مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تناظر فراہم کرتا ہے۔ اس کی حکمت عملیوں نے، خواہ شعوری طور پر عمل میں لائی گئی ہوں یا نہ ہوں، خطے میں لسانی، قبائلی اور مذہبی تقسیم کو گہرا کیا، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں ہوئیں۔ فلسطینیوں کے خلاف تشدد، جبری نقل مکانی، اور غیر قانونی حراست جیسے اقدامات نے خطے کے لوگوں کے لیے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنایا۔
مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری ان پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور ایک ایسی حکمت عملی اپنائے جو تمام گروہوں کے حقوق کا احترام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، خطے کے ممالک کو اپنی داخلی یکجہتی کو مضبوط کرنے اور فرقہ وارانہ نفرت کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ صرف اسی طرح مشرق وسطیٰ ایک پرامن اور مستحکم خطہ بن سکتا ہے، جہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ ہو اور تمام باشندوں کے لیے انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔
پاکستان کو ینون پلان جیسے مبینہ منصوبوں اور مشرق وسطیٰ کی حالت زار سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو روکنے کے لیے قومی یکجہتی کو فروغ دینا، تعلیم اور آگاہی کے ذریعے نفرت اور تعصب کو کم کرنا ہو گا۔
اس کے علاؤہ پاکستان کو غیر جانبدار اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانا، خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا اور بڑی طاقتوں کے تنازعات سے دور رہنا ہو گا۔ بحثیت ایک زمہ دار ریاست دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف سخت اقدامات، سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت بڑھانا اور معاشی ترقی پر توجہ بھی مرکوز کرنا ہو گی۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں او آئی سی اور دیگر علاقائی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر امن و استحکام کے لیے کام کرنا۔ سب سے اہم کام جو ہمیں کرنے کی ضرورت ہے وہ اقلیتوں اور کمزور گروہوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے تاکہ داخلی تناؤ کم ہو۔