دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ایک نئی تاریخی حد عبور کرتے ہوئے دنیا کے پہلے کھرب پتی (ٹریلین ایئر) بن گئے ہیں۔ ان کی دولت ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ سنگ میل اس وقت سامنے آیا جب مسک کی راکٹ اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی اسپیس ایکس کی ریکارڈ ابتدائی شیئرز فروخت کے بعد کمپنی کی مالیت دو کھرب ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔ اس اضافے کے نتیجے میں ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.2 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس خبر نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔ مالیاتی حلقوں میں اسے مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ اس بات کی ایک اور وجہ ہے کہ امیروں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔ امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ ایک اوسط امریکی خاندان کو ایلون مسک جتنی دولت حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ دس لاکھ سال سے زیادہ عرصہ کام کرنا پڑے گا۔
دنیا کا پہلا ارب پتی کون تھا؟
اگرچہ آج دنیا میں ہزاروں ارب پتی موجود ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب دنیا نے کسی ارب پتی کا نام تک نہیں سنا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق دنیا کے پہلے ارب پتی امریکی تیل کے تاجر جان ڈی راک فیلرتھے، جو 29 ستمبر 1916 کو یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے شخص بنے۔ اس زمانے میں ایک ارب ڈالر کی مالیت آج کے 30 ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
اس وقت بھی عوام اور میڈیا کی توجہ غیر معمولی دولت پر مرکوز تھی اور راک فیلر کی دولت پر وہی حیرت اور بحث دیکھنے میں آئی جو آج ایلون مسک کے حوالے سے دیکھی جا رہی ہے۔