‘افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی طالبان کی جیت ہے’، دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ

اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد واشنگٹن نے طالبان کو افغانستان کی قانونی حکومت تسلیم نہیں کیا۔

امریکا اب بھی باضابطہ طور پر یہی مؤقف رکھتا ہے کہ افغانستان میں ایک ایسی جامع حکومت ہونی چاہیے جو خواتین، اقلیتوں اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے، لیکن عملی سطح پر امریکی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔

دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق اب واشنگٹن افغانستان کو انسانی حقوق، جمہوریت اور ریاستی تعمیر کے بڑے ایجنڈے کے بجائے چند مخصوص معاملات، خاص طور پر انسداد دہشت گردی، امریکی شہریوں کی رہائی اور سکیورٹی خدشات کے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔

امریکا نے 31 اگست 2021 کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد قطر میں افغانستان افیئرز یونٹ امریکی سفارتی مشن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود گزشتہ 5 برسوں کے دوران امریکی حکام اور طالبان کے درمیان محدود رابطے جاری رہے ہیں۔

واشنگٹن ان رابطوں کو “سلیکٹو انگیجمنٹ” یا مخصوص معاملات تک محدود سفارت کاری قرار دیتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے کاؤنٹر ٹیررازم کوآرڈینیٹر گریگوری ڈی لوگرفو نے حال ہی میں کہا کہ طالبان کے ساتھ رابطہ صرف اسی وقت کیا جاتا ہے جب یہ امریکا کے مفاد میں ہو اور معاملہ حساس سکیورٹی امور سے متعلق ہو۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق طالبان کے لیے یہ رابطے معمولی نہیں ہیں۔ دوحہ میں طالبان کے نمائندے سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان اب کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں اور طالبان حکومت عدم استحکام پیدا کرنے والے گروہوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کو تعمیر نو، معاشی ترقی اور مختلف شعبوں میں تعاون کی ضرورت ہے، اس لیے طالبان دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے لیے یہ رابطے محدود اور معاملہ وار ہو سکتے ہیں، مگر طالبان کے لیے ہر ملاقات اپنی حکمرانی کو عالمی سطح پر منوانے کا ایک موقع ہے۔ طالبان کو باضابطہ تسلیم نہ بھی کیا جائے، پھر بھی غیر ملکی حکام سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ان کے لیے عملی سفارتی کامیابی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں افغانستان کے حوالے سے 2 بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ پہلی تبدیلی امداد سے متعلق ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں اکتوبر 2021 کے بعد امریکا نے افغانستان میں انسانی اور ترقیاتی امداد کے لیے 3.8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 کے وسط تک افغانستان سے متعلق غیر ملکی امدادی پروگرام ختم کر دیے، حالانکہ ملک میں انسانی بحران بدستور موجود ہے۔

دوسری تبدیلی افغان شہریوں کی امریکا منتقلی سے متعلق ہے۔ اگست 2021 سے 2025 کے وسط تک 190,000 سے زیادہ افغان شہری امریکا میں آباد کیے گئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہوں نے افغانستان میں امریکی افواج یا امریکی اداروں کے ساتھ کام کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ان آبادکاری کوششوں کو ختم کیا، کیئر دفتر بند کیا اور افغان شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ، بشمول اسپیشل امیگرنٹ ویزا بھی معطل کر دی۔ اس تبدیلی نے ان افغان شہریوں کو خاص طور پر متاثر کیا جو طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خود کو خطرے میں سمجھتے تھے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان اب امریکی عوامی بحث اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں بھی پہلے جیسی جگہ نہیں رکھتا۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق افغانستان کا ذکر نہ 2025 کی امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی میں نمایاں طور پر سامنے آیا اور نہ 2026 کی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی میں۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ واشنگٹن افغانستان کو اب ماضی کا ایک معاملہ سمجھتا ہے۔

بعض مبصرین اس کا موازنہ ویتنام جنگ کے بعد امریکی سیاسی خاموشی سے کرتے ہیں، جب واشنگٹن شکست، انخلا اور ناکام اہداف پر کھلی بحث سے گریز کرتا رہا۔ امریکا نے 2001 میں افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے ہٹایا تھا، مگر 20 سالہ جنگ کے بعد وہی گروہ دوبارہ کابل میں اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ افغانستان واشنگٹن کے لیے ایک مشکل سیاسی یادداشت بن چکا ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان رابطوں کا سب سے نمایاں میدان قیدیوں کا تبادلہ رہا ہے۔ جنوری 2025 میں بائیڈن انتظامیہ کے آخری دنوں میں طالبان نے 2 امریکی شہریوں کو ایک افغان قیدی کے بدلے رہا کیا تھا۔ اس تبادلے میں قطر نے ثالثی کی اور مذاکرات کئی ماہ تک جاری رہے۔ بعد میں طالبان نے مزید امریکی شہریوں کو بھی رہا کیا، جن میں جارج گلیزمین کی رہائی بھی شامل تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اس عمل کو “یرغمالی سفارت کاری” قرار دیتا ہے، مگر طالبان اسے اپنی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا راستہ سمجھتے ہیں۔ ان رابطوں سے طالبان کو یہ پیغام دینے کا موقع ملتا ہے کہ افغانستان میں اصل اختیار انہی کے پاس ہے، چاہے عالمی برادری انہیں تسلیم کرے یا نہ کرے۔

دوسرا اہم مسئلہ انسانی حقوق، خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا ہے۔2001 میں امریکا نے افغانستان پر حملے کے جواز میں طالبان کے خواتین مخالف اقدامات کو بھی نمایاں طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت امریکی قیادت نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ خواتین کے حقوق کی جنگ بھی ہے لیکن 2020 کے دوحہ مذاکرات میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو مرکزی جگہ نہیں دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اب بھی ناقدین کہتے ہیں کہ واشنگٹن کے طالبان سے رابطوں میں انسانی حقوق کا مسئلہ پیچھے چلا گیا ہے۔ طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیاں، خواتین کے کام کرنے پر سخت پابندیاں اور عوامی زندگی میں ان کی شمولیت محدود ہے۔ اس کے باوجود امریکا کی موجودہ حکمت عملی زیادہ تر سکیورٹی اور قیدیوں کی رہائی تک محدود دکھائی دیتی ہے۔

ڈی ڈپلومیٹ کے مطابق یہ پالیسی طالبان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ عالمی دباؤ کے باوجود وقت کے ساتھ اپنی گرفت مضبوط کرتے جا رہے ہیں۔2025 میں روس طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اسی دوران بھارت نے بھی طالبان سے اپنے سفارتی اور تجارتی روابط میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے طالبان کو یہ پیغام ملا کہ وقت گزرنے کے ساتھ عالمی تنہائی کم ہو سکتی ہے، چاہے انسانی حقوق کے معاملے پر دباؤ برقرار رہے۔

ڈی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر امریکا طالبان سے مکمل لاتعلقی اختیار کرتا ہے تو امریکی شہریوں، دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات پر اس کے پاس اثر انداز ہونے کے کم ذرائع رہ جاتے ہیں، لیکن اگر وہ طالبان سے مسلسل رابطہ رکھتا ہے تو اس پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت کو عملی حیثیت دے رہا ہے جسے وہ خود قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ اسی تضاد نے افغانستان پر امریکی پالیسی کو ایک مشکل موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

واشنگٹن اسے محدود، معاملہ وار اور قومی مفاد پر مبنی رابطہ کہتا ہے لیکن طالبان اسے اپنی سفارتی کامیابی سمجھتے ہیں۔

افغان خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طالبان مخالف افغان شہریوں کے لیے یہ تبدیلی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ عالمی طاقتیں انسانی حقوق کے سوال کو بتدریج پیچھے چھوڑ رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان پر امریکی پالیسی اب اصولی مؤقف اور عملی ضرورت کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن طالبان کو تسلیم نہیں کرتا، تو دوسری طرف انہی طالبان سے مذاکرات بھی کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ افغانستان کی نئی حقیقت ہے، جسے تسلیم تو کیا جا رہا، مگر مذاکرات کی میز پر موجود طاقت ضرورہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں