اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں۔ واشنگٹن روانگی سے قبل اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ٹرمپ کے دوسری بار منتخب ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کی 8 ویں ملاقات ہوگی۔
ان کے مطابق یہ کسی بھی دوسرے عالمی رہنما کے مقابلے میں زیادہ ملاقاتیں ہیں، جو اسرائیل کے لیے اعزاز بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ملاقات میں تمام اہم امور پر بات ہوگی، مگر ایران ایجنڈے میں سب سے نمایاں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد اپنی سکیورٹی کا تحفظ، اپنی طاقت میں اضافہ اور خطے میں امن کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وہ اس مشن پر اس عزم کے ساتھ جا رہے ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی، طاقت اور مستقبل کو یقینی بنایا جائے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی خطے کی سیاست کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں بات چیت کے دوران ایران کے ساتھ جنگ، علاقائی سکیورٹی، غزہ کی صورتحال اور امن معاہدوں کے امکانات زیر بحث آ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں امریکی سینیٹر لنزے گراہم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دورے کے دوران اپنے اور اسرائیل کے حقیقی دوست لنزے گراہم کو آخری سلام پیش کریں گے۔ نیتن یاہو کے مطابق لنزے گراہم اسرائیل کے سب سے بڑے دوستوں میں سے ایک تھے۔