بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کے کنسرٹ کے منتظم ادارے “ایونٹ سجائی” کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق وزارت داخلہ نے وزارت ثقافت کو خط لکھ کر کہا ہے کہ کنسرٹ کے دوران بدنظمی، آخری وقت میں وینیو کی غیر منظور شدہ تبدیلی اور سکیورٹی خامیوں پر ایونٹ سجائی کے خلاف کارروائی کی جائے۔
26 جولائی کو وزارت ثقافت کے سیکریٹری کو یہ خط بھیجا گیا، جس پر ڈپٹی سیکریٹری عشرت جہاں کے دستخط موجود ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق ایونٹ سجائی کو کھلکھیت میں پوربچل ایکسپریس وے کے قریب کرکٹرز اکیڈمی میں کنسرٹ کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم کمپنی نے وزارت داخلہ کی پیشگی اجازت کے بغیر آخری وقت میں وینیو تبدیل کر دیا۔
حکام کے مطابق وینیو کی اس تبدیلی سے تقریب کے دوران بڑے پیمانے پر بدنظمی پیدا ہوئی، جس پر شرکا نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ منتظمین منظور شدہ شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہے، جس سے عاطف اسلم سمیت دیگر فنکاروں کی سکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔
خط میں کہا گیا کہ وینیو پر مناسب سہولیات اور کافی سکیورٹی انتظامات موجود نہیں تھے، جس کے باعث کنسرٹ میں آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزارت داخلہ کے مطابق اس واقعے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید ہوئی اور مختلف نیوز اداروں نے منفی رپورٹس شائع کیں۔ وزارت نے وزارت ثقافت سے کہا ہے کہ ایونٹ سجائی کے کردار کی تحقیقات کی جائیں، کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی بھی کی جائے۔
خط کی نقول نیشنل سکیورٹی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل، پولیس کی اسپیشل برانچ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی بھیجی گئی ہیں۔
عاطف اسلم کا کنسرٹ 24 جولائی کو ڈھاکا میں ہونا تھا، جس کے لیے مقامی بینڈز میگھدول اور لیول فائیو کی پرفارمنس بھی شیڈول تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فنکاروں کے کنسرٹس کے لیے وینیو، اجازت نامے، سکیورٹی اور ہجوم کے انتظامات خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔