چین –کرغزستان- ازبکستان ریلوے: وسطی ایشیاء کے لیے اس منصوبے کا کیا مطلب ہے؟

چین، کرغزستان اور ازبکستان ریلوے منصوبہ ایک نئی ریلوے لائن سے زیادہ وسطی ایشیا کے تجارتی اور جغرافیائی نقشے کو بدلنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو کاشغر، اندیجان ریلوے لائن بھی کہا جاتا ہے، جو چین کو کرغزستان کے راستے ازبکستان سے جوڑے گی۔

ٹائمز آف سنٹرل ایشیاء کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2024 میں چین، کرغزستان اور ازبکستان نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ منصوبے کی لاگت تقریباً 4.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ اس کی فنانسنگ دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق چین کے لیے یہ ریلوے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہے، کیونکہ اس سے چین کو وسطی ایشیا اور اس سے آگے زمینی تجارت کے نئے راستے ملیں گے۔ ازبکستان کے لیے یہ منصوبہ تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

ازبکستان اس ریلوے کو ایران، ترکیہ اور دیگر بین الاقوامی ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس سے جوڑ کر اپنی برآمدات اور ٹرانزٹ اہمیت بڑھانا چاہتا ہے۔ کرغزستان کے لیے اس منصوبے کی اہمیت سب سے زیادہ اس لیے ہے کہ ریلوے کا بڑا حصہ اس کے پہاڑی علاقوں سے گزرے گا۔

رپورٹ کے مطابق کرغزستان میں لائن کا تقریباً 304 کلومیٹر حصہ ہوگا، جس میں سے تقریباً 90 فیصد راستہ نارین خطے سے گزرے گا۔ نارین کے لیے یہ منصوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ کرغزستان کا انتہائی پہاڑی اور نسبتاً کم ترقی یافتہ خطہ سمجھا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق تعمیراتی کام جاری ہے اور مشکل جغرافیے کے باوجود ریلوے 2028 سے 2030 کے درمیان مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس منصوبے میں 50 پل اور 29 سرنگیں شامل ہیں، جو اس کی انجینیئرنگ پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

کرغزستان کے نائب وزیراعظم ادیل بائیسالوف کے مطابق یہ ریلوے صرف کرغزستان نہیں بلکہ پورے وسطی ایشیا کو بدل سکتی ہے۔ ان کے مطابق مکمل ہونے کے بعد یہ لائن ٹرانس سائبیرین ریلوے اور سمندری راستوں کے مقابلے میں ترسیل کا وقت کم از کم 7 دن کم کر سکتی ہے۔

یہ لائن چین سے یورپ اور مشرق وسطیٰ تک سامان پہنچانے کے لیے روس اور قازقستان کے روایتی شمالی راستوں کا متبادل بھی بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے روس اور قازقستان کی ٹرانزٹ آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔

ٹائمز آف سنٹرل ایشیا کے مطابق کرغزستان کو امید ہے کہ اس منصوبے سے اسے سالانہ کم از کم 300 ملین ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ کرغز حکام کے مطابق نارین خطہ کوئلے، لوہے، ایلومینیم اور نایاب معدنیات سے مالا مال ہے، مگر ریلوے نہ ہونے کی وجہ سے یہ وسائل بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہو سکے۔

بائیسالوف کے مطابق نئی ریلوے سے صرف خام مال کی برآمد نہیں بڑھے گی بلکہ میٹلرجیکل پلانٹس، اسٹیل ملز، ایلومینیم فیکٹریز، لاجسٹکس سینٹرز اور صنعتی زونز کے قیام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار پہلے ہی ریلوے لائن کے ساتھ لاجسٹکس مراکز اور اسمبلی سہولتیں قائم کرنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

تاہم اس منصوبے پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کرغزستان کہیں صرف ایک ٹرانزٹ ملک بن کر نہ رہ جائے، جہاں سے سامان تو گزرے مگر مقامی معیشت کو محدود فائدہ پہنچے۔

قرض کا معاملہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔رپورٹ کے مطابق منصوبے کے لیے چینی بینکوں سے تقریباً 2.3 ارب ڈالر کا طویل المدتی قرض لیا جا رہا ہے، جو 35 سال میں واپس کیا جائے گا۔ ناقدین کے مطابق اس سے کرغزستان کا چین سے جڑا قرضی بوجھ بڑھ سکتا ہے اور مستقبل میں ادائیگیوں کا دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف ریلوے لائن بچھانے پر نہیں ہوگا۔ یہ بھی اہم ہوگا کہ اس راستے سے کتنا کارگو گزرے گا، ٹیرف پالیسی کیا ہوگی، کرغزستان کتنی مقامی صنعتیں قائم کر سکے گا، اور کیا ازبکستان و چین اس لائن کو بڑے تجارتی نیٹ ورک سے جوڑ پائیں گے یا نہیں۔

اس وقت چین سے کرغزستان اور ازبکستان جانے والی تجارت زیادہ تر قازقستان کے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے ہوتی ہے، کیونکہ چین سے ان دونوں ممالک تک براہ راست ریلوے رابطہ موجود نہیں۔ نئی لائن مکمل ہونے کے بعد کم از کم علاقائی رابطہ کاری بہتر ہوگی اور وسطی ایشیا کا انحصار شمالی راستوں پر کچھ کم ہو سکتا ہے۔

ازبکستان کے لیے یہ منصوبہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ وہ خود کو ایک لینڈ لاکڈ ملک کے بجائے لینڈ لنکڈ تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ ریلوے ایران، ترکیہ، قفقاز اور جنوبی ایشیا کے راستوں سے جڑتی ہے تو ازبکستان خطے کے ٹرانزٹ نقشے میں زیادہ مرکزی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔

چین کے لیے یہ منصوبہ روس پر انحصار کم کرنے، وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ بڑھانے اور بیلٹ اینڈ روڈ کے زمینی راستوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں