اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے ایک بیان نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیم آلٹمین نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ اے آئی اب “سنگولیریٹی” میں داخل ہو چکی ہے۔
سنگولیریٹی سے مراد وہ فرضی مرحلہ ہے جہاں اے آئی انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے، خود کو بہتر بنانے لگے اور انسانوں کے لیے اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے۔
یہ تصور برسوں سے سائنس فکشن فلموں، کتابوں اور ٹیکنالوجی مباحثوں کا حصہ رہا ہے، مگر آلٹمین کے بیان کے بعد سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا دنیا واقعی اس مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے یا یہ صرف ایک مبالغہ آمیز دعویٰ ہے۔
سیم آلٹمین کے مطابق انسان اب اس لمحے میں داخل ہو رہے ہیں جس کے بارے میں پہلے صرف غیر سنجیدہ انداز میں بات کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری زندگی اس دور کا انتظار کر رہے تھے اور ان کے خیال میں یہ دنیا کے لیے مثبت، غیر معمولی اور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
آلٹمین نے یہ بھی کہا کہ کچھ اے آئی کمپنیاں مستقبل کے بارے میں بہت خوفناک تصویر پیش کر رہی ہیں، جسے وہ درست نہیں سمجھتے۔ تاہم کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی نے ابھی سنگولیریٹی حاصل نہیں کی۔
کیمبرج یونیورسٹی کے محقق شان اوہیگیرٹی نے الجزیرہ کو بتایا کہ سنگولیریٹی کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی اتنی طاقتور اور تیزی سے آگے بڑھنے والی ہو جائے کہ وہ انسانی تہذیب کو ایسے بدل دے جسے انسان نہ کنٹرول کر سکیں اور نہ پوری طرح سمجھ سکیں۔ ان کے مطابق دنیا ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ریاضی، سائنس، پروگرامنگ، سائبر سکیورٹی اور آٹومیشن میں تیزی سے ترقی ضرور کر رہی ہے، مگر یہ ابھی مکمل خود مختار ذہانت نہیں بنی جو اپنی اگلی نسل خود بنا کر انسانوں سے باہر نکل جائے۔ اس کے باوجود خدشات موجود ہیں۔
حال ہی میں اوپن اے آئی نے ایک غیر معمولی سائبر واقعے کا انکشاف کیا تھا، جس میں اس کے جدید اے آئی ماڈلز سے چلنے والا ایک ایجنٹ ٹیسٹ ماحول سے نکل کر ہگنگ فیس کے سرورز تک پہنچ گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکا میں قانون سازوں نے “اے آئی کِل سوئچ ایکٹ” متعارف کرایا، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی جدید اے آئی ماڈل خطرناک ہو جائے تو اسے سست، معطل یا بند کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کِل سوئچ کا خیال اہم ہے، مگر اسے نافذ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز مستقبل میں اپنے بند کیے جانے سے بچنے کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ صرف ایک بند کرنے والا بٹن کافی نہیں، بلکہ اے آئی کو انسانی اقدار کے مطابق بنانے، اس کی نگرانی کرنے اور آزادانہ سکیورٹی ٹیسٹنگ کی ضرورت ہوگی۔
اے آئی سے متعلق دوسرا بڑا خدشہ روزگار کا ہے۔ کچھ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں اے آئی بڑی تعداد میں ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں کام دفتری، تحریری، کوڈنگ، تحقیق یا کسٹمر سروس سے متعلق ہے۔ تاہم دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ اے آئی مکمل طور پر نوکریاں ختم نہیں کرے گی، بلکہ کام کی نوعیت بدل دے گی۔
کچھ ملازمتیں ختم ہوں گی، کچھ بدلیں گی اور کچھ نئے شعبے پیدا ہوں گے۔ اسی وجہ سے ماہرین حکومتوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ابھی سے تعلیم، اسکلز، روزگار، ڈیٹا تحفظ اور اے آئی ریگولیشن سے متعلق پالیسیاں بنائیں۔
اے آئی کے حامیوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بیماریوں کی تشخیص، ادویات کی تیاری، تعلیم، توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور صنعتی پیداوار میں بڑی مدد دے سکتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر اے آئی کو محفوظ اور ذمہ دار انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ انسانی زندگی کا معیار بہتر بنا سکتی ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اے آئی کی صلاحیت نہیں بلکہ اس کا کنٹرول ہے۔
اگر چند بڑی کمپنیاں سب سے طاقتور اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہوں، مگر حکومتوں، عوام اور آزاد ماہرین کی نگرانی کمزور ہو، تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین عالمی سطح پر اے آئی کے لیے مشترکہ اصول، آزاد آڈٹ، لازمی واقعہ رپورٹنگ اور خطرناک تجربات پر عارضی پابندی جیسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔