ایلون مسک دنیا کے پہلے 400 ارب ڈالر کے مالک بن گئے

دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا، اسپیس ایکس، اور ایکس اے آئی جیسی معروف کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے دولت کے حوالے سے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ دنیا کے پہلے فرد بن گئے ہیں جن کی مجموعی دولت 400 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اسپیس ایکس کی مارکیٹ قدر 350 ارب ڈالر تک پہنچنے اور ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ایلون مسک کی دولت میں 11 دسمبر کو 62.8 ارب ڈالرز کا بڑا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے ساتھ، ان کی مجموعی دولت اب 447 ارب ڈالرز ہو چکی ہے، جو انہیں دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص جیف بیزوز (249 ارب ڈالرز) سے 198 ارب ڈالرز زیادہ دولت مند بناتی ہے۔

2024 میں غیرمعمولی مالی کامیابی

سال 2024 کے دوران ایلون مسک کی دولت میں اب تک 218 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد، نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہونے کے باعث مسک کی کمپنیوں کو بڑا فائدہ ہوا، اور ان کی دولت میں حیران کن رفتار سے اضافہ ہوا۔

اسپیس ایکس اور ٹیسلا کی غیرمعمولی کامیابی

مسک کی کامیابی میں ان کی کمپنیوں کا بڑا کردار ہے۔ اسپیس ایکس کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ویلیو اور ٹیسلا کے 21 فیصد حصص، جو ان کی مجموعی دولت کا 68 فیصد بنتے ہیں، ان کی مالی طاقت کا مرکز ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد ٹیسلا کے حصص کی قیمت میں 65 فیصد اضافہ ہوا، جس نے ایلون مسک کی دولت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

مصنوعی ذہانت اور دیگر منصوبے

ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کمپنی، ایکس اے آئی، کی قدر بھی نومبر 2024 کے دوران دوگنا ہو چکی ہے، جس سے ان کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 5 نومبر 2024 کے بعد سے ان کی دولت میں 158 ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مستقبل کا امکان

ستمبر 2024 میں انفارما کنکٹ اکیڈمی کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ اگر ایلون مسک کی دولت میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو وہ 2027 تک دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر یا ایک ہزار ارب ڈالرز کے مالک بن سکتے ہیں۔

ایلون مسک کی اس کامیابی نے انہیں نہ صرف دنیا کے امیر ترین افراد میں نمایاں مقام دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کے اثرورسوخ کو بھی مزید مضبوط کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں