روزانہ چکن کھانے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

چکن ایک نہایت ورسٹائل اور مقبول پروٹین ہے جو سلاد، سوپ، ٹاکوز یا کیسرول جیسے بے شمار کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ چکن کھانا صحت کے لیے محفوظ ہے؟ اس حوالے سے رجسٹرڈ ڈائٹیشن اور ریسیپی ڈیولپر میکنزی برجز (Mackenzie Burgess, RDN) کی رائے سے فائدہ اٹھایا گیا تاکہ چکن کے روزمرہ استعمال کے فوائد اور نقصانات کو سمجھا جا سکے۔

چکن غذائیت سے بھرپور غذا ہے جو سیلینیم، فاسفورس اور نیاسین (وٹامنB3)جیسے اہم غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔ تاہم، چکن کے مختلف حصوں کی غذائیت میں فرق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، بغیر جلد کے 85 گرام چکن بریسٹ میں 128 کیلوریز، 26 گرام پروٹین، صرف 3 گرام چکنائی اور 1 گرام سچوریٹڈ فیٹ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اتنی ہی مقدار کی ران (تھائیز) میں 164 کیلوریز، 20 گرام پروٹین اور 9 گرام چکنائی موجود ہوتی ہے، جس میں سچوریٹڈ فیٹ کی مقدار 2.4 گرام تک جا سکتی ہے۔

چکن کھانے کے کئی طبی فوائد ہیں۔ برجز کے مطابق چکن ایک مکمل پروٹین ہے جو تمام ضروری امینو ایسڈز فراہم کرتا ہے۔ یہ امینو ایسڈز ہارمونز، مدافعتی خلیات اور عضلات کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ چونکہ انسانی جسم نو میں سے صرف گیارہ امینو ایسڈز خود بنا سکتا ہے، اس لیے باقی نو امینو ایسڈز خوراک سے حاصل کرنا لازمی ہے، اور چکن اس ضرورت کو بخوبی پورا کرتا ہے۔

مزید برآں، چکن پروٹین کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، 70 کلوگرام وزن رکھنے والے شخص کو تقریبا56 گرام پروٹین درکار ہوتا ہے، جو چکن کے ذریعے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ برجز مشورہ دیتی ہیں کہ ہر کھانے میں 15 سے 30 گرام پروٹین لینا مفید ہے، اور چار اونس چکن میں تقریبا35 گرام پروٹین ہوتا ہے جو اس ہدف کے لیے موزوں ہے۔

تاہم، روزانہ چکن کھانے کے کچھ ممکنہ نقصانات بھی ہیں۔ اگر چکن ہی واحد پروٹین ذریعہ ہو، تو آپ کی غذا میں ضروری چکنائی جیسے اومیگا-3 فیٹی ایسڈز کی کمی ہو سکتی ہے۔ برجز تجویز کرتی ہیں کہ چکن کو زیتون کے تیل میں پکائیں یا اسے ایووکاڈو سلاد کے ساتھ کھائیں تاکہ صحت مند چکنائی حاصل کی جا سکے۔

ایک اور ممکنہ نقصان یہ ہے کہ صرف چکن کھانے سے غذائی تنوع متاثر ہوتا ہے۔ ہر قسم کے پروٹین کی اپنی غذائیت ہوتی ہے، اور صرف چکن پر انحصار کرنے سے فائبر، آئرن، اومیگا-3، اور کیلشیم جیسے دیگر اہم اجزاء سے محرومی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہفتے بھر میں پروٹین کے مختلف ذرائع جیسے مچھلی، دہی، انڈے، دالیں، بیج، گریاں اور توفو کو غذا میں شامل کرنا ضروری ہے، تاکہ غذائیت میں توازن اور تنوع برقرار رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں