سونے سے قبل پینے کے لیے بہترین اور بدترین مشروبات

گرم دودھ سے لے کر کیمومائل (بابونہ)چائے اور دیگر کئی صحت بخش مشروبات تک، ایسے کئی مشروبات دستیاب ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ نیند بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن کون سے مشروبات واقعی نیند کو بہتر بناتے ہیں؟

ذیل میں سونے سے قبل پینے کے لیے بہترین اور بدترین مشروبات کی فہرست دی جا رہی ہے، نیز ایسے مشروبات جن کے بارے میں نیند کے ماہرین ابھی بھی تحقیق کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ سونے سے فوراً قبل زیادہ مقدار میں کوئی بھی مشروب پینا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا نیند میں خلل ڈال سکتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر بزرگ افراد، حساس مثانے والے افراد، یا ایسے افراد کے لیے اہم ہے جو ایسی ادویات استعمال کر رہے ہوں جو پیشاب کی مقدار بڑھاتی ہوں (جیسے ذیابیطس کے لیے SGLT2 ان ہبیٹرز)، جیسا کہ یو سی ایل اے ہیلتھ کے نیورولوجی پروفیسر اور نیند کی خرابیوں کے ماہر ڈاکٹر الون آویدان نے بیان کیا۔

ایسے افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سونے سے تین سے چار گھنٹے پہلے تمام مشروبات ترک کر دیں، صرف چند گھونٹ پانی کی پیاس بجھانے کے لیے مناسب ہیں۔ ڈاکٹر آویدان کے مطابق “دن کے دوران زیادہ تر مائعات لیں اور رات کے کھانے کے دوران عام مائعات استعمال کریں۔”

سونے سے قبل پینے کے لیے بہترین مشروبات
پانی
امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (CDC) کے مطابق، سادہ پانی صحت مند ترین مشروب ہے جو دن کے کسی بھی وقت، بشمول سونے سے پہلے، پیا جا سکتا ہے۔ پانی میں صفر کیلوریز ہوتی ہیں اور یہ جسم کو پانی کی کمی سے بچاتا ہے، جو دھندلی سوچ، موڈ میں تبدیلی، قبض اور گردے کے پتھروں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

کچھ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانی کی کمی اور نیند کے مسائل کے درمیان تعلق ہو سکتا ہے، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کون سا مسئلہ پہلے آتا ہے۔

کیمومائل چائے
کیمومائل چائے یا بابونہ چائے کو نیند لانے کے لیے پینا ایک پرانا مشورہ ہے، اور اس کی سچائی بھی کچھ حد تک ثابت ہوئی ہے۔ تحقیق نے کیمومائل کے سکون بخش اور نیند آور اثرات کو تسلیم کیا ہے۔ بابونہ ایک طرح کا سفید پھول ہے جس کا مرکز سنہری ہوتا ہے، یہ نیند کے لئے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کچھ مطالعات میں بہتر نیند کے لیے کیمومائل چائے کے فائدے پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر آویدان کے مطابق، “یہ چائے ایک گرم اور سکون بخش اثر دیتی ہے، اور یہ جاننا کہ آپ کچھ ایسا پی رہے ہیں جو آرام کا باعث بنتا ہے، خود میں ایک مثبت اثر پیدا کرتا ہے۔”

ٹارٹ چیری جوس
رونالڈ ریگن یو سی ایل اے میڈیکل سینٹر کی کلینیکل ان پیشنٹ ڈائیٹیشن ڈاکٹر ڈانا ہننس کہتی ہیں کہ ٹارٹ چیری جوس نیند کو بہتر بنانے کی خصوصیات رکھتا ہے۔

“ٹارٹ چیری میلاٹونن سے بھرپور ہوتے ہیں، جو نیند لانے والا ہارمون ہے جو جسم خود پیدا کرتا ہے۔” وہ مزید بتاتی ہیں کہ پھل کھانا جوس پینے سے بہتر ہو سکتا ہے کیونکہ جوس میں موجود قدرتی شکر پیشاب بڑھا سکتی ہے کیونکہ شکر جسم میں پانی کو جذب کرنے کا باعث بنتی ہے۔

ڈاکٹر آویدان نے بھی مریضوں کو نیند کے لیے ٹارٹ چیری جوس پینے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، “تحقیقی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جوس نیند میں مبتلا ہونے کا وقت (نیند آنے میں لگنے والا وقت) اور رات کو جاگنے کے وقفے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔”

سونے سے قبل پینے کے لیے بدترین مشروبات
سب سے پہلے تو ممنوعہ اور اسلام میں حرام سمجھے جانے والے مشروبات سے ہر حال میں گریز کیا جائے، اب سائنسدان بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کیونکہ یہ ممنوعہ مشروبات جسم میں کئی گھنٹے تک رہتے ہیں اور مسائل پیدا کرتے ہیں۔

کافی
کافی کے بارے میں کوئی تعجب کی بات نہیں: ڈاکٹر آویدان کے مطابق کافی سونے سے قبل پینے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں ڈائوریٹک اثر ہوتا ہے جو پیشاب بڑھاتا ہے اور کیفین نیند کو روکتی ہے۔

ڈاکٹر ہننس کا کہنا ہے کہ کیفین سے پاک کافی بھی نیند متاثر کر سکتی ہے۔ “میں کیفین والی کافی کو نیند سے آٹھ گھنٹے پہلے پینے سے گریز کرنے کی تجویز دوں گی کیونکہ کیفین کی نصف عمر کافی لمبی ہوتی ہے۔”

کالا یا سبز چائے
کالا اور سبز چائے دونوں میں کیفین ہوتی ہے اور یہ بھی ڈائوریٹک ہیں، اس لیے یہ کافی کی طرح سونے سے پہلے نہیں پینی چاہئیں۔ ڈاکٹر آویدان کہتے ہیں کہ “سونے سے چار سے چھ گھنٹے پہلے ان چائے کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کیفین کا کم مقدار بھی نیند کے پیٹرن کو متاثر کر سکتا ہے۔”

سوڈا
زیادہ تر سوڈا میں کیفین اور شکر موجود ہوتی ہے جو نیند میں خلل ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ کیفین نہ بھی ہو تو سوڈا کی کاربونیٹیشن (بلبلے) نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر ہننس کے مطابق، “سوڈا کو سونے سے کم از کم تین سے چار گھنٹے پہلے بند کرنا چاہیے، اگر کیفین ہو تو آٹھ گھنٹے پہلے۔”

ایسے مشروبات جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ یہ نیند بہتر کرتے ہیں مگر سائنسی ثبوت کم ہیں
میگنیشیم والا مشروب (جیسے Calm)
چونکہ میگنیشیم کی کمی نیند کے مسائل سے جُڑی ہوتی ہے، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا سپلیمینٹ نیند بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہننس کے مطابق، میگنیشیم والے مشروبات میلاٹونن (نیند لانے والے ہارمون) کو منظم کرنے اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر ان مشروبات میں میگنیشیم کی مقدار اتنی نہیں کہ نمایاں فرق ڈال سکے۔ وہ بتاتی ہیں کہ “خوراک سے میگنیشیم حاصل کرنا بہتر ہے”

گرم دودھ
یہ قدیم مشورہ ہے، لیکن اس کی سائنسی بنیاد کمزور ہے۔
ڈاکٹر ہننس کے مطابق، “یہ اس لیے کام کر سکتا ہے کیونکہ دودھ ایک آرام دہ غذا ہے جو بعض افراد کو نیند آنے میں مدد دیتی ہے، جو کہ پلیسبو ایفیکٹ ہو سکتا ہے۔” اس میں موجود ٹرپٹوفین یا دیگر پروٹین نیند میں مددگار ہو سکتے ہیں، مگر اس بات کے مضبوط ثبوت نہیں کہ یہ نیند کو نمایاں بہتر بناتا ہے۔

ڈاکٹر آویدان کہتے ہیں کہ گرم دودھ سے گیسٹرک ریفلکس کے شکار افراد کو احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ ان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

CBD والے مشروبات
ابھی تک CBD والے مشروبات کے نیند پر اثرات کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔ ڈاکٹر آویدان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مختلف افراد کے ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں اور اس کے فوائد یا خطرات کے بارے میں ڈیٹا کم ہے، اس لیے وہ اس کے استعمال کی سفارش نہیں کرتے

اپنا تبصرہ لکھیں