امریکی حملوں میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کا معاملہ، انڈیا-امریکا تعلقات کس موڑ پر کھڑے ہیں؟

انڈیا اور امریکا کے تعلقات انتہائی کشیدہ شکل اختیار کر گئے ہیں۔

رواں ہفتے بدھ کے روز امریکی فوج نے عمان کے ساحل کے قریب سیٹبیلو، میریویکس اور جلویئر نامی تین بحری تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔ ان تینوں جہازوں پر باقی عملہ ارکان کے ساتھ انڈین ملاح بھی موجود تھے۔ میریویکس اور جلویئر پر حملوں میں تو انڈین ملاح محفوظ رہے لیکن سیٹبیلو پر حملے میں 3 انڈین ملاح مارے گئے۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے اب تک اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں ان کے اس روہے سے شدید نالاں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز سے ہی انڈیا اور امریکا کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ یوکرین پر روسی جنگ کے باعث جب ٹرمپ انتظامیہ نے روسی خام تیل خریدنے پر پابندیاں لگا دیں، تب بھی انڈیا روس سے تیل درآمد کرتا رہا، جس کے جواب میں امریکا نے انڈیا پر اضافی ٹیرف عائد کر دیے۔

اس کے علاوہ، انڈیا کی اچھی خاصی آبادی زرعی منڈی سے وابسطہ ہے۔ یہ ان کے لیے لائف لائن کی مانند ہے۔ انڈین حکومت مقامی زرعی منڈی اور کسانوں کے تحفظ کے لیے امریکی زرعی مصنوعات پر زیادہ درآمدی ڈیوٹی لگاتی آ رہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی امریکا نے انڈیا پر ٹیرف عائد کیے۔ کئی عالمی میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا کہ یہ ٹیرف ‘باہمی تجارتی توازن برقرار رکھنے اور انڈین زرعی منڈی تک زیادہ رسائی کے واسطے عائد کیے گئے’۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث تو حالات کشیدہ رہے ہی، لیکن مئی 2025 میں پاک-انڈیا جنگ میں مبینہ ثالثی کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو انڈیا نے اس وقت ایک طرح سے امریکی ثالثی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انڈیا نے موقف اپنایا کہ جنگ بندی دوطرفہ بات چیت کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔ انڈیا نے آج تک پاک-انڈیا جنگ بندی میں امریکی ثالثی کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ تجارتی جنگ کے بعد یہ بھی تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بنی۔

اس دوران صدر ٹرمپ بار بار پاک-انڈیا جنگ میں انڈین جنگی طیاروں کے گرنے کا ذکر بھی کرتے رہے۔ ہر مرتبہ انہوں نے جنگ بندی کا کریڈٹ لیا۔ اس پر انڈیا کے اندر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔ پارلیمنٹ میں نریندر مودی حکومت سے سوالات بھی ہوئے۔ انڈین اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ‘اگر ٹرمپ پاک-انڈیا جنگ بندی کے حوالے سے جھوٹا دعوی کر رہے ہیں تو پھر نریندر مودی اسمبلی فلور پر انہیں جھوٹا کیوں نہیں قرار دیتے؟’۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگی طیاروں کے گرنے کے بار بار دعووں نے بھی تعلقات کو مزید کونے کی طرف دھکیل دیا۔

جون 2025 میں جب وزیراعظم نریندر مودی جی-7 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا گئے تو صدر ٹرمپ نے ان کو واپسی پر امریکا مدعو کیا۔ مودی کے مطابق، انہوں نے ‘شائستگی سے انکار’ کیا، لیکن انڈیا کے اندر کچھ حلقوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘جس وقت ٹرمپ نے مودی کو دعوت دی، بالکل اسی وقت ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو لنچ کروا رہے تھے’۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ‘مودی نے انکار اس لیے کیا، ایسا نہ ہو کہ ٹرمپ وہاں پاک-انڈیا بندی جنگ بندی میں اپنے کردار پر بات کریں’۔

اب امریکی حملوں میں تین انڈین ملاحوں کی موت کے معاملے پر مودی حکومت کو ایک بار پھر ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انڈیا-امریکا تعلقات موضوع بحث بن گئے ہیں۔

فی الحال اس معاملے کو انڈین وزارت خارجہ ہینڈل کر رہی ہے۔ جمعرات کو وزرات خارجہ نے نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کے قائم مقام نائب صدر جیسن میکس کو طلب کیا اور شدید ‘سفارتی احتجاج’ ریکارڈ کرایا۔ جمعہ کے روز بھی جیسن میکس کو طلب کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ انڈیا کے خدشات امریکی حکام تک پہنچائیں اور یہ یقنی بنائیں کہ خطے میں امریکی کارروائیوں کے دوران شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

امریکی فوج نے ان حملوں کے حوالے سے اپنا موقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ان جہازوں نے امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی اور بار بار وارننگز کو نظر انداز کیا۔ اس لیے درست ہتھیاروں کے ذریعے حملے کیے گئے’۔

جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب انڈین وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور امریکی حملوں میں انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایسی مہلک کارروائیاں کسی طور جائز نہیں ہیں’۔

اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جلد امن معاہدہ طے پانے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ اگر پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے تو انڈیا-امریکا تعلقات اور خطے میں انڈیا کی پوزیشن پر بحث مزید شدت اختیار کر جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں