دیر سے ناشتہ کرنا ذہنی دباؤ، تھکن اور دانتوں کے مسائل کی وجہ بن سکتا ہے

ناشتہ ہمیشہ سے دن کی سب سے اہم غذا مانا جاتا ہے، لیکن بہت سے لوگ مصروفیات یا لاپرواہی کی وجہ سے اسے یا تو چھوڑ دیتے ہیں یا دیر سے کرتے ہیں۔ ماہرین نے اب خبردار کیا ہے کہ ناشتہ دیر سے کرنا بھی ایک خطرناک عادت ہو سکتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ کئی جسمانی اور ذہنی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے بتایا ہے کہ دیر سے ناشتہ کرنے کی عادت انسان کی عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، اس سے نہ صرف ذہنی دباؤ اور تھکن میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ منہ کی صحت جیسے دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق ایک طبی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، جس میں 42 سے 94 سال کی عمر کے تقریباً تین ہزار افراد کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان افراد کو 20 سال تک مسلسل زیرِ نظر رکھا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی ناشتہ کرنے کی عادت تاخیر کا شکار ہوتی ہے، ان میں دماغی دھند، مستقل تھکن، ذہنی دباؤ، اور منہ کی بیماریوں کی شکایات عام تھیں۔ ایسے افراد وقت سے پہلے بوڑھے دکھنے لگتے ہیں اور ان کے جسم میں وہ نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو عام طور پر زیادہ عمر کے لوگوں میں دیکھی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح جلد ناشتہ کرنا نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے بلکہ یہ ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھانے کے بعد منہ کی صفائی کی عادت اپنانا بہت ضروری ہے تاکہ دانت اور مسوڑھے صحت مند رہیں۔

خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ناشتہ وقت پر کریں، کیونکہ ان میں ان بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے آخر میں یہ مشورہ دیا کہ تمام افراد، خاص طور پر بزرگ، ناشتہ کرنے کے وقت کو معمول پر لائیں تاکہ وہ ذہنی، جسمانی اور ظاہری طور پر صحت مند زندگی گزار سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں