پاکستان: جعفر ایکسپریس حملہ بھارت کی دہشت گرد پالیسی کا تسلسل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ، پاکستان میں دہشت گردی کا مرکزی اسپانسر بھارت ہے اور جعفر ایکسپریس پر حملہ بھارتی دہشتگرد پالیسی کے تسلسل کا ایک اور ثبوت ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ، بھارت جعلی معلومات اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بھی کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ، یہ حملہ ایک منظم منصوبے کے تحت کیا گیا۔ دہشت گردوں نے پہلے بلوچستان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جہاں تین جوان شہید ہوئے، اور اس کے بعد جعفر ایکسپریس کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد دہشت گردوں نے ٹرین سے مسافروں کو اتار کر یرغمال بنا لیا اور انہیں گروہوں میں تقسیم کر دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ، یہ کوئی معمولی دہشت گردی نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے بھارت کی سرپرستی میں چلنے والا ایک منصوبہ تھا۔ جیسے ہی واقعہ رونما ہوا، بھارتی میڈیا اور اس کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے فورا جعلی ویڈیوز اور ایڈیٹ شدہ مناظر نشر کرنے شروع کر دیے ،تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے جعلی ویڈیوز بنائی گئیں اور انہیں بھارتی میڈیا نے بڑے پیمانے پر پھیلایا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ، عالمی سطح پر یہ تاثر دیا جائے کہ ،پاکستان میں اقلیتوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ حملہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور ان کے پراکسی گروہوں کا کیا دھرا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، فوج، فضائیہ، اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے صرف 36 گھنٹوں کے اندر انتہائی پیچیدہ اور دشوار گزار علاقے میں کامیاب آپریشن کر کے یرغمالیوں کو رہا کرایا۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی ضرار کمپنی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ، ایف سی کے جوانوں نے سب سے پہلے دہشت گردوں کو گھیرے میں لیا اور اسنائپرز نے خودکش بمباروں کو نشانہ بنایا۔ جیسے ہی دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیا گیا، کئی یرغمالیوں کو فرار ہونے کا موقع ملا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
12 مارچ کو دوپہر کے وقت ضرار کمپنی نے آپریشن کی مکمل کمان سنبھالی۔ ان کے ماہر اسنائپرز نے تمام خودکش بمباروں کو نشانہ بنایا، اور اس کے بعد فوجی جوان انجن کے ذریعے ٹرین میں داخل ہوئے اور ایک ایک بوگی کو کلیئر کرتے ہوئے تمام خواتین اور بچوں کو بحفاظت باہر نکالا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ، یہ تاریخ کا ایک بے مثال آپریشن تھا، جس میں دہشت گردوں کے قبضے میں موجود مسافروں کی جانیں بچانے کے لیے غیرمعمولی مہارت، جرات، اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران کوئی یرغمالی شہید نہیں ہوا، جو لوگ شہید ہوئے، وہ دہشت گردوں کے حملے کے دوران مارے گئے تھے، لیکن آپریشن کے دوران فوج نے تمام معصوم شہریوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ، یہ حملہ صرف داخلی دہشت گردی نہیں تھی، بلکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے ماضی کے ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ، مارا جانے والا دہشت گرد ،بدرالدین، افغانستان کے صوبہ بادغیس کے نائب گورنر کا بیٹا تھا۔ایک اور دہشت گرد میجب الرحمٰن افغانستان کی فوج میں بٹالین کمانڈر تھا، لیکن پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا تھا۔
اسی طرح بنوں حملے میں بھی افغان دہشت گرد ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ، دہشت گردوں کے قبضے سے جو ہتھیار، مواصلاتی آلات، اور دیگر سازوسامان برآمد ہوا، وہ بھی غیرملکی تھا اور افغانستان سے اسمگل کیا گیا تھا۔
پریس کانفرنس میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ، سرفراز بگٹی نے کہا کہ، بلوچستان میں دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ، یہ جنگ بلوچ حقوق یا سیاست کی نہیں، بلکہ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی ایک عالمی سازش ہے، جس میں بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔
انہوں نے علیحدگی پسندوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ، اب ریاست انہیں دہشت گردوں کی طرح ٹریٹ کرے گی، اور ان کے خلاف بھی وہی اقدامات کیے جائیں گے، جو دہشت گردوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ، اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکا، چین، روس، برطانیہ، ایران، ترکیہ، اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین، یورپی یونین، اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ، بھارت اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرے گا اور بھارت و دیگر دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں