موسمِ بہار کی ایک سہ پہر میں مستنصرحسین تارڑ صاحب کی اسٹڈی میں اُن کے گلبرگ والے گھر میں بیٹھا تھا۔اُن کی رائٹنگ ٹیبل کے سامنے ایک کھڑکی باغیچے میں کھلتی تھی اور اسٹڈی میں مہاتما بُدھ کے مجسّمے سے لے کر صادقین، چغتائی اور سعید اختر کی شاہ کار پینٹنگز آویزاں تھیں۔ تارڑ صاحب کہنے لگے۔
”ایک زمانہ تھا کہ اے حمید اپنا افسانہ ’منزل منزل‘ لکھتا تھا تو اُس کی شہرت راس کماری سے کشمیر تک پھیل جاتی تھی۔تب ادبی رسالوں کی وقعت تھی، یہ سنجیدگی اورشوق سے پڑھے جاتے تھے۔“ اتنا کہہ کر انھوں نے توقف کیا، کلپر سے جلتے سگریٹ کی نوک کاٹی اور بات جاری کی۔
”اور اب یہ عالم ہے کہ آدمی کوئی شاہ کار بھی تخلیق کرلے تو کسی کو خبر نہیں ہوتی۔“
تارڑ صاحب کی بات درست تھی۔ اِس کی مثال اُن کی اپنی ہی دو کتابوں کی صورت میں بھی سامنے آگئی۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں ان کی کئی کتب سامنے آئیں، فکشن اور نان فکشن۔ البتہ میری پرُ عجز رائے میں فکشن کے شائقین کے لیے ان کتب میں سے بالخصوص دو کتب سوغات کا درجہ رکھتی ہیں ،دو نالٹوں پر مشتمل کتاب ”روپ بہروپ“ اور افسانوں کا مجموعہ”15۔کہانیاں“۔’روپ بہروپ‘ میں کیا عمدہ ناولٹ ہیں، بالخصوص ایک خیال کہ تقسیمِ ہند کے بعد ہندو تو اِدھر سے چلے گئے مگر اُن کے گھروں میں پوجا کے لیے جو مورتیاں رکھی ہوتی تھیں، وہ مورتیاں کہاں گئیں۔ علاوہ ازیں متنوع موضوعات ہیں جنھیں ان کے زندہ قلم نے جاوید کردیا۔ میں منتظر رہا کہ ان کہانیوں کا خوب چرچا ہوگا۔ ہر سُو خاموشی رہی، اِکّادُکّا نحیف آوازیں سنائی دیں، پھر سنّاٹا۔
ایک اورتازہ چلن بھی دیکھا ہے کہ ہر مصنف خود اپنی تصنیف کی تشہیر کرنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ جو کام پہلے پبلشر، اشتہار اور مبصرونقاد کرتے تھے وہ ذمہ بھی بے چارے مصنف کا ٹھیرا۔سو جس ادیب کی آواز جتنی اونچی ہو وہ اتنی دور تک پہنچتی ہے۔
پہلے تخلیق کی آواز گونجتی تھی، آج سینہ تانے مصنف کی آواز گونجتی ہے۔
زمانہ بدل گیا، ترسیلِ خیال اور اظہارِ فن کے ذرائع بدل گئے۔ آج تحریر پہلے سے کہیں زیادہ پڑھی جاتی ہے۔کئی گُنا زیادہ۔پہلے ہر دوسرے گھر اخبارآتاتھا اور کتاب کا ایک ہزار نسخوں پر مشتمل ایڈیشن شائع ہوتا تھا۔ آج کروڑوں موبائل فونوں نے کروڑوں قارئین پیدا کردیے ہیں۔ بھلے یہ قارئین کتاب نہیں پڑھتے مگر واقعات، روداد، آرا وغیرہ موبائل کی اسکرین پر پڑھتے ہیں اوریہ سب مطالعے کے زمرے میں آتا ہے۔
اس معاملے کا ایک پہلو قابلِ توجہ ہے کہ آج کسی تحریر کی تاثیر یا کسی فرد کی مقبولیت کا دورانیہ خاصا گھٹ گیا ہے۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق ڈیجیٹل مطالعہ حافظے میں بہت کم عرصہ قائم رہتا ہے اوراِس کی تاثیر بہ نسبت کاغذی تحریر کے خاصی کم ہوتی ہے، کئی درجے کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسکینڈے نیویا میں درسی مطالعے کے لیے کاغذی کتب کی جانب واپس رجوع کیا جارہا ہے۔
بات چلی تھی طویل اور پائدار اثرات سے لمحاتی تو جہ کی۔
جب شاہ رخ خان کہتا ہے “میں آخری سپراسٹار ہوں” تو وہ درست کہتا ہے۔ دلیپ صاحب تو نصف صدی سے بڑھ کر دورانیے تک سپراسٹار رہے،امیتابھ بھی اتنا ہی عرصہ گزار چکے، شاہ رخ، سلمان خان، عامر خان کو بھی تین دہائیاں ہونے کو آئی ہیں شہرت کے زینے کے بلند ترین مقام پر کھڑے ہوئے۔اب کوئی سپراسٹار آئے گا تو چند برس یا چند ماہ کے لیے۔وہ دور گئے جب مندروں میں رجنی کانت اور امیتابھ کی مورتیاں رکھی جاتی تھیں۔
وہ زمانے بھی گئے جب لوگ ایک مکان کئی نسلوں کے لیے بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گئے وقتوں میں جب ٹی وی وغیرہ نہ ہوتے تھے اور لوگ اتنا سفر بھی نہیں کرتے تھے، تب لوگوں کی دل چسپی اور توجہ کا مرکز ان کے اپنے مکان،حویلیاں، قریبی رشتے داراور ہم سائے یا شہر دار ہوتے تھے۔ ان سے جذباتی لگاؤ بھی حد درجہ ہوتا تھا اور ان سے بچھڑنے کا غم بھی ایسا ہوتا تھا کہ آج بھی کینیڈا سے بوڑھاسکھ چکوال میں اپنی آبائی حویلی کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ٹورانٹو سے بھاگا چلا آتا ہے۔
وہ نسل گئی، غتربود، غائب غائب، پیرغائب کی طرح جن کی میّت چارپائی سے غائب ہوگئی تھی۔
آج ہے ڈسپوزیبل نسل، چند لمحوں کی توجہ، چند ثانیے کا ارتکاز رکھنے والی ذہین نسل،گزشتہ نسلوں سے زیادہ ذہین نسل۔آج ہوم ڈلیوری، آن لائن شاپنگ اور ای کامرس کازمانہ ہے۔ آدمی کا آدمی سے رابطہ گھٹ رہا ہے اورمشین سے بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً آدمی نئی سے نئی خبر، سنسنی کا ہمہ وقت متلاشی رہتاہے، اُسے اچھی خبرمایوس کرتی ہے، ملک کی ایکسپورٹ بڑھ گئی یا ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہے اُسے جھوٹ لگتا ہے، البتہ یہ خبرکہ ستوکتلاکے نالے میں آئی طغیانی میں کسی غریب کے مویشی بہہ گئے اُس کی توجہ حاصل کرلیتی ہے اوراس کا انطباق وہ پورے ملک پر کرتا ہے۔
اُسے سٹیلائٹ ٹاؤن گوجراں والاتو بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے لیکن امریکا جیسی سپر پاور کے نیویارک میں ڈوبی سڑکیں اور فلیش فلڈ میں ڈوب کرمرنے والے درجنوں امریکی بچے نظر نہیں آتے۔ وہ نہیں جانتا کہ آدمی قدرتی آفات نہیں لاتے اور اگر یہ انسانی تدبیر سے بڑھ جائیں تو یہ نہیں دیکھتیں کہ وہ کینیڈا کا کیلگری ہے یا پاکستان کا بھلوال۔
سو سنسنی خیز، عموماً منفی، مختصر خبروں اور چٹکلوں کا متلاشی نیا آدمی پلاسٹک کے ایک چھوٹے سے ڈبے میں قید ہے۔ جسے موبائل فون،سیل فون کہا جاتا ہے، جیسے کبھی الف لیلوی کہانیوں کے جن کی جان توتے میں قید ہوتی تھی۔آج کے آدمی کو اس ڈبے کی قید سے آزاد ہوناہے کہ یہی آئینِ فطرت اور قانونِ قدرت ہے کہ مصنوعی ذرائع تادیر حاوی نہیں رہتے۔
آج کا آدمی ماضی کے آدمی سے زیادہ ذہین ہے، اُس کے پاس حصولِ علم کے بے شمار ذرائع ہیں اور وہ حالات ِ عالم سے زیادہ آشنا ہے۔
نہ جانے کیوں مجھے آج بھی ’ذہین‘سے زیادہ ’دانا‘ لوگ متاثر کرتے ہیں، ’انٹیلی جنٹ‘سے زیادہ ’وائز‘ آدمی دل کو بھاتا ہے۔ آج کے ایلون مسک کے سامنے قدیم یونانی رواقی فلسفی (Stoics) ایسے لگتے ہیں جیسے ایک بونے کے سامنے کھڑے جنات، دانائی کے پیکر، ایسی دانائی جو طویل تفکر، یک سوئی اورتنہائی میں کیے گئے ارتکاز سے پیدا ہوتی ہے، ڈسپوزیبل جنریشن کی لمحاتی توجہ اور منتشر ذہانت سے نہیں۔