خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے کوہاٹ میں ڈینگی کے پھیلاؤ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ضلع کوہاٹ میں رواں سال اب تک 788 ڈینگی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں صرف گزشتہ ہفتے 72 نئے کیسز سامنے آئے۔ صوبے بھر میں رواں سال ڈینگی کیسز کی مجموعی تعداد 1,327 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری میں کوہاٹ سے حاصل کیے گئے 19 نمونوں میں سے پانچ میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد ضلع میں بیماری کے پھیلاؤ کی تصدیق کی گئی۔ محکمہ صحت کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے گلشن آباد میں مچھروں کے لاروا بھی دریافت کیے، جسے کوہاٹ کا اہم شہری ہاٹ اسپاٹ قرار دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں کوہاٹ کے بعد پشاور 251 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ بنوں میں 79، ہری پور میں 35 اور نوشہرہ میں 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کی ٹیموں نے مختلف اضلاع میں مچھروں کی افزائش کے مقامات کی نشاندہی کرکے لاروا تلف کرنے کی کارروائیاں بھی کی ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کوہاٹ میں صورتحال ایک بڑے عوامی صحت کے مسئلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق سابق افغان مہاجر کیمپوں کے بعض مقامات پر ملبہ اور گڑھوں میں کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی محکمہ صحت نے ضلعی انتظامیہ سے ان مقامات کو ہموار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈینگی کی روک تھام کے لیے گزشتہ ہفتے محکمہ صحت کی ٹیموں نے 65 ہزار سے زیادہ آگاہی سیشنز کیے، جبکہ ایک ہزار سے زائد گھروں، تقریباً 1,600 پانی کے برتنوں اور 321 بیرونی مقامات سے مچھروں کے لاروا ختم کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف سرکاری کارروائیاں کافی نہیں اور بیماری پر قابو پانے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گھروں میں پانی کھلے برتنوں میں جمع نہ ہونے دیں، ایئر کولرز کا پانی باقاعدگی سے تبدیل کریں اور گھروں و محلوں کے اردگرد کھڑا پانی ختم کریں۔ حکام کے مطابق ڈینگی پھیلانے والے مچھر کی افزائش روکنا بیماری سے بچاؤ کا اہم ترین طریقہ ہے۔