امریکہ کا پاکستان میں انسانی حقوق اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنے کا مطالبہ

امریکہ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام کریں، جن میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین کا پرامن احتجاج کرنے کا حق شامل ہے۔ یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے جاری کیا۔

پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی جانب روانہ قافلے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نے انہیں ڈی چوک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔

امریکی بیان

محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں میتھیو ملر نے کہا کہ پاکستان اور دنیا بھر میں اظہار رائے، پرامن اجتماع، اور تنظیم سازی کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہم مظاہرین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پرامن احتجاج کریں اور تشدد سے گریز کریں، جبکہ پاکستانی حکام سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں، اور پاکستان کے قوانین اور آئین کا احترام کرتے ہوئے قانون و نظم برقرار رکھیں۔

حکومت اور پی ٹی آئی مظاہرین کا ٹکراؤ

حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے 24 نومبر کو طے شدہ احتجاج کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے گرفتاریوں، لاٹھی چارج، اور آنسو گیس کے باوجود احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا کہ آج حکلا انٹرچینج پر "شرپسندوں” کے ہاتھوں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوا۔

گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے، تاہم عوامی زندگی متاثر نہ ہو، خاص طور پر بیلاروس کے صدر کے تین روزہ دورہ اسلام آباد کے دوران۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں