مصنوعی ذہانت کے عالمی خطرات پر سلامتی کونسل کا اجلاس، چینی کمپنی ڈیپ سیک پہلی بار شریک ہوگی

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی مصنوعی ذہانت کمپنی ڈیپ سیک اس ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اے آئی سے عالمی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات پر بریفنگ دینے والی کمپنیوں میں شامل ہوگی۔ اس پیش رفت سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اجلاس بدھ، 23 ستمبر کو نیو یارک میں ہوگا۔

سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک کا یہ اجلاس مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے بعض رہنماؤں نے انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی بریفنگ دیں گے، جبکہ سفارت کاروں کے مطابق اینتھروپک کے سینئر نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق ڈیپ سیک کے علاوہ چینی اے آئی کمپنی مون شاٹ سمیت دیگر اداروں کو بھی اپنے مؤقف پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ خود اجلاس میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم انتظامات میں آخری وقت تک تبدیلی ممکن ہے۔ ڈیپ سیک اور مون شاٹ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر پہلی مرتبہ 2023 میں باقاعدہ اجلاس کیا تھا۔ اس وقت چین نے خبردار کیا تھا کہ اے آئی کو بے قابو ہونے سے روکنا ضروری ہے، جبکہ امریکہ نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی، سنسرشپ اور جبر کے ممکنہ استعمال پر تشویش ظاہر کی تھی۔

مصنوعی ذہانت کی رفتار اور اس پر عالمی نگرانی کے معاملے پر امریکہ اور چین سمیت مختلف ممالک کے درمیان اختلافات بھی موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں چینی سرکاری میڈیا نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کے مطالبات کو امریکی تکنیکی برتری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ امریکہ اور چین نے اے آئی سیفٹی پر مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں