امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے ایک نئی ’’اے آئی فورس‘‘ قائم کرنے اور جلد ایک خصوصی اے آئی مشیر یا ’’اے آئی زار‘‘ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس نئی فورس کے اختیارات، ساخت اور کام کرنے کے طریقۂ کار کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ان کی حکومت مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی بلکہ اسے فروغ دینے میں مدد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال سامنے آتا ہے تو موجودہ فوجداری اور دیوانی قانونی نظام کے ذریعے اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کے لیے نئے وفاقی ضوابط متعارف کرانے کے مطالبات پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ امریکا کو اے آئی کی ترقی کی رفتار کم نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ شعبہ مستقبل میں ملکی معیشت اور عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اے آئی کو اگلے بڑے صنعتی انقلاب سے تشبیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں یہ شعبہ امریکی معیشت میں بہت بڑا حصہ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اس وقت چین اور دیگر ممالک سے اے آئی کے میدان میں آگے ہے اور وہ اس برتری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت، جدید سیمی کنڈکٹرز اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقابلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ امریکی اور چینی حکام کے درمیان حالیہ مذاکرات میں اے آئی سے متعلق حفاظتی رابطوں اور اہم واقعات کی اطلاع دینے کے ممکنہ نظام پر بھی بات ہوئی ہے۔
واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ممکنہ خطرات پر بحث بھی جاری ہے۔ بعض ماہرین اور قانون ساز زیادہ مضبوط حفاظتی ضوابط کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا زور اس بات پر ہے کہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جو امریکی اے آئی صنعت کی ترقی کو سست کر دیں۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ ’’اے آئی فورس‘‘ ایک نئی سرکاری ایجنسی ہوگی، کسی موجودہ ادارے کے تحت کام کرے گی یا اس کے پاس باقاعدہ ریگولیٹری اختیارات بھی ہوں گے۔