اے آئی نظام خود اپنی بہتری اور اگلے ماڈلز کی تیاری میں حصہ لینے لگے، اینتھروپک کا انتباہ

مصنوعی ذہانت کی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک نے کہا ہے کہ جدید اے آئی نظام اب اپنی آئندہ نسل کے ماڈلز کی تیاری میں پہلے سے کہیں زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے یہ بحث مزید تیز ہوگئی ہے کہ مستقبل میں انسان ایسے نظاموں پر کس حد تک مؤثر نگرانی برقرار رکھ سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق اس کا اے آئی ماڈل ’کلاڈ‘ اب اینتھروپک کے تحقیق و ترقی کے کاموں کے ایک بڑے حصے میں براہِ راست شامل ہے۔

اینتھروپک کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگست 2026 تک کلاڈ کمپنی کے تقریباً 26 فیصد تحقیق و ترقی کے کاموں میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، یعنی وہ انسانی نگرانی میں کسی کام کا بیشتر حصہ ابتدا سے آخر تک خود مکمل کر سکتا تھا۔ اس کے علاوہ 90 فیصد سے زائد تحقیقی کام ایسے تھے جن میں اے آئی کسی نہ کسی سطح پر انسانی ماہرین کے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کلاڈ ابھی کسی بھی بڑے تحقیقی شعبے میں مکمل طور پر خودمختار انداز میں کام نہیں کر رہا۔

کمپنی نے اس رجحان کو ’ریکَرسیو سیلف امپروومنٹ‘ سے جوڑا ہے، یعنی ایسا مرحلہ جہاں ایک اے آئی نظام اپنی ہی اگلی اور زیادہ طاقتور نسل کو تقریباً مکمل طور پر خود تیار کرنے کے قابل ہو جائے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ دنیا ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسا لازماً ہو، تاہم موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اینتھروپک کے مطابق اس وقت کمپنی کے اندر تقریباً 30 ہزار اے آئی ایجنٹس تحقیق اور انجینئرنگ کے مختلف کام انجام دے رہے ہیں۔ ان ایجنٹس کی سرگرمیوں پر خودکار نگرانی کے نظام موجود ہیں اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات کو آن لائن اور آف لائن دونوں سطحوں پر مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ کسی خطرناک یا غیر متوقع رویے کو بروقت روکا جا سکے۔

کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی ماڈلز اپنی ترقی کی رفتار خود تیز کرنے لگیں تو انسانوں کے لیے یہ سمجھنا اور کنٹرول کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے کہ ایسے نظام کس طرح فیصلے کر رہے ہیں۔ اسی لیے اینتھروپک نے اپنی تحقیق، نگرانی اور اے آئی کی ترقی کی رفتار سے متعلق اعداد و شمار عوام، حکومتوں اور آزاد ماہرین کے سامنے زیادہ شفاف انداز میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی بھی حالیہ دنوں میں جدید ترین اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے یا اسے منظم انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی سے طب، معیشت اور سائنس سمیت کئی شعبوں میں بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن انتہائی طاقتور نظاموں کی ترقی کے ساتھ نگرانی، حفاظتی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں آزاد تیسرے فریق کے ماہرین کو بھی اپنے داخلی نظاموں اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اے آئی کی صلاحیتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے مقابلے میں انسانی نگرانی اور حفاظتی نظام کس حد تک مؤثر رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں