امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر اختلاف برقرار، معاہدے کی کوششیں جاری

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں پر عارضی معطلی کے حوالے سے تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی کسی حتمی معاہدے کے دورانیے پر متفق نہیں ہو سکے۔

پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران سے یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں بیس سال کے لیے معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی معطلی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی تجویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے، تاہم اس کے باوجود مذاکرات میں کسی ممکنہ معاہدے کی راہ تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی بھی شروع کی گئی ہے۔

ادھر دونوں فریقین کے درمیان دوبارہ براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی سفارتی سطح پر رابطے ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کو ابتدائی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے اور فوری کسی معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی۔

لبنانی حکام کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے، جہاں لبنان جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے وہیں اسرائیل اپنی عسکری کارروائیوں کو جاری رکھنے کے اشارے دے رہا ہے۔

خطے میں اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی اعلان کے باوجود کئی یورپی ممالک نے اس ممکنہ ناکہ بندی کی حمایت سے انکار کیا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق ایران، لبنان اور اسرائیل میں جاری کشیدگی کے دوران بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں