ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ صرف 10 سے 15 منٹ کی مسلسل چہل قدمی دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، وقفے وقفے سے چند منٹ کی چہل قدمی کے مقابلے میں لمبی اور مسلسل واک جسم کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو زیادہ تر وقت بیٹھے رہتے ہیں یا غیر فعال طرزِ زندگی رکھتے ہیں۔

یہ مطالعہ 33 ہزار 500 برطانوی بالغ افراد پر تقریباً 10 سال تک جاری رہا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ جو لوگ روزانہ پانچ منٹ سے کم وقت کے لیے چلتے تھے، ان میں اموات کا خطرہ 4.4 فیصد تک تھا، جبکہ 10 سے 15 منٹ یا اس سے زیادہ مسلسل واک کرنے والوں میں یہ خطرہ صرف 0.8 فیصد دیکھا گیا۔

اسی طرح دل کے امراض اور فالج کے مشترکہ خطرات میں بھی نمایاں فرق سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق، مختصر وقفوں میں چلنے والوں میں یہ خطرہ 13 فیصد تک تھا، جب کہ مسلسل چہل قدمی کرنے والوں میں یہ خطرہ گھٹ کر 4.4 فیصد رہ گیا۔

ماہرین نے زور دیا کہ روزانہ 5 ہزار قدموں سے کم چلنے والے افراد کے لیے بھی لمبی اور باقاعدہ واک دل کی صحت میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، صرف قدموں کی تعداد ہی نہیں بلکہ چلنے کا دورانیہ بھی دل کو تندرست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ تھوڑی دیر کی مستقل جسمانی سرگرمی بھی انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے روزانہ چند منٹ نکالنا ایک سادہ مگر مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں