شام کے صوبہ سویدا میں جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، 594 افراد ہلاک

شام کے جنوبی صوبہ سویدا میں فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرنے والی حالیہ جھڑپوں میں کم از کم 594 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم “سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹ نے کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 300 دروز برادری کے افراد شامل ہیں، جن میں 146 مسلح جنگجو اور 154 عام شہری شامل تھے۔ ان میں سے 83 افراد کو مبینہ طور پر شامی حکومت کی فورسز نے فیلڈ میں ہی گولی مار کر ہلاک کیا۔ دوسری جانب 257 حکومتی اہلکار اور 18 بدو جنگجو بھی مارے گئے۔

جھڑپوں کا آغاز دروز اور بدو برادریوں کے درمیان زمین اور وسائل کے تنازع سے ہوا، مگر جلد ہی یہ تصادم شامی حکومت کی مداخلت کے بعد شدت اختیار کر گیا۔ دروز برادری کے ایک بااثر مذہبی رہنما شیخ حکمۃ الحجری نے حکومتی فورسز کو عسکری گروہ قرار دیتے ہوئے صوبے کی مکمل آزادی تک لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ادھر اسرائیل نے بھی اس تنازع میں فوجی مداخلت کی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق انہوں نے دروز برادری کی حفاظت اور شامی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے ہوائی حملے کیے۔ ان حملوں میں دمشق میں وزارت دفاع کی عمارت اور صدارتی محل کے اطراف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل آئندہ بھی شام کے جنوبی حصے میں شامی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کرے گا اور دروز برادری کو ہر صورت میں تحفظ فراہم کرے گا۔

حالیہ لڑائی سے سینکڑوں بدو شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ شہر میں لوٹ مار اور تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ شامی عبوری صدر احمد الشرا ع نے اسرائیلی حملوں کو شام کی خودمختاری کے خلاف ایک کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین، قوم اور وحدت کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل ہماری سلامتی کو مسلسل نشانہ بناتا رہا ہے، اور اب ایک بار پھر انتشار پھیلانے کے درپے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شام کے بعد از اسد دور میں یہ لڑائی نہ صرف داخلی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ خطے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی عکاس بھی ہے۔ سویدا کی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں