چین کا نیا اے آئی ماڈل ’کیمی کے تھری‘، امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے نیا چیلنج

چین کی ایک نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی نے امریکی ٹیکنالوجی کی صنعت کو حیران کر دیا ہے۔ بیجنگ کی اسٹارٹ اپ کمپنی مون شاٹ کی جانب سے جاری کیا گیا نیا اے آئی ماڈل کیمی کے تھری (Kimi K3) ماہرین کے مطابق دنیا کے جدید ترین اے آئی ماڈلز کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اے آئی کی کارکردگی جانچنے والے پلیٹ فارم ایرینا کے مطابق کیمی کے تھری نے خاص طور پر ویب اور سافٹ ویئر کوڈنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور یہ کئی معروف ماڈلز کے مقابلے میں آگے رہا ہے۔

ایرینا کے سربراہ انستاسیوس اینجلوپولوس نے کہا کہ یہ سال کی سب سے اہم اے آئی پیش رفتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق چینی اوپن سورس اے آئی ماڈلز اب بعض شعبوں میں امریکی کمپنیوں کے بند ماڈلز کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔

مون شاٹ کمپنی کو ایک ایسے چینی کاروباری شخص چلا رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم امریکا کی یونیورسٹی آف پٹسبرگ سے حاصل کر چکے ہیں اور مشہور برطانوی میوزک بینڈ پنک فلائیڈ کے مداح بھی ہیں۔

کیمی کے تھری کی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور چین کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ امریکا کی جانب سے چین کو جدید چپس اور دیگر ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات کے بعد چین اپنی مقامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی ترقی کسی ایک ملک کی کوشش نہیں ہونی چاہیے بلکہ دنیا کو مل کر اس شعبے میں تعاون کرنا چاہیے۔

امریکا اور چین کے درمیان اے آئی کی یہ مسابقت آنے والے برسوں میں عالمی ٹیکنالوجی کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں