تاشقند کی مشہور گھڑی، جو جرمنی کی جنگی تباہی سے گزر کر ازبکستان پہنچی

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے مرکز میں موجود مشہور کلاک ٹاور کی تاریخ کسی عام گھڑی کی کہانی نہیں بلکہ جنگ، ہجرت اور تحفظ کی ایک دلچسپ داستان ہے۔

یہ گھڑی دراصل ازبکستان میں تیار نہیں ہوئی تھی بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کے ایک تباہ شدہ ٹاؤن ہال سے نکال کر تاشقند لائی گئی تھی۔

تاریخی حوالوں کے مطابق یہ گھڑی مشرقی پروشیا کے شہر ایلن اسٹائن کے ٹاؤن ہال میں نصب تھی، جو آج پولینڈ کا حصہ ہے اور اولشتین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران یہ علاقہ شدید تباہی کا شکار ہوا۔

اس گھڑی کو محفوظ رکھنے میں تاشقند سے تعلق رکھنے والے ماہر گھڑی ساز اور فوجی الیگزینڈر آئزن اسٹائن کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے حکام کو قائل کیا کہ عمارت کو گرانے سے پہلے گھڑی کے قیمتی میکانزم کو بچا لیا جائے۔

جنگ کے اختتام کے بعد آئزن اسٹائن اس گھڑی کا نظام تاشقند لے آئے۔ وہاں انہوں نے اسے دوبارہ اپنے ہاتھوں سے مرمت کیا اور چلنے کے قابل بنایا۔

بعد ازاں اس تاریخی گھڑی کے لیے تاشقند میں ایک خصوصی کلاک ٹاور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈیزائن کے مقابلے میں معمار اے اے محمدشین کا منصوبہ منتخب ہوا، جبکہ تعمیراتی کام کی نگرانی وی لیوچینکو نے کی۔

یہ کلاک ٹاور 1947 میں مکمل ہوا اور اسی سال 30 اپریل کو گھڑی نے دوبارہ وقت بتانا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی گھنٹیوں کو دوسری جنگِ عظیم میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

آج بھی یہ گھڑی ہر پندرہ منٹ بعد اپنی آواز کے ذریعے شہر کو وقت کا اعلان کرتی ہے اور تاشقند کی نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔

1966 میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں تاشقند کے کئی حصے متاثر ہوئے، تاہم یہ کلاک ٹاور بھی نقصان کے باوجود محفوظ رہا اور بعد میں اس کی مرمت کی گئی۔

تقریباً چھ دہائیوں تک تاشقند میں یہی واحد مشہور کلاک ٹاور تھا، لیکن 2009 میں اس کے سامنے اسی طرز کا ایک دوسرا ٹاور بھی تعمیر کر دیا گیا۔ آج یہ دونوں ٹاور شہر کے تاریخی ورثے اور ماضی کی ایک منفرد یادگار کے طور پر موجود ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں