پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ نے بلوچستان حکومت سے معاہدے کے بعد کوئٹہ میں 10 روز سے جاری دھرنا ختم کر دیا ہے۔ دھرنا کمیٹی نے جمعہ کی رات حکومت سے معاہدہ طے پانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔
دھرنا کمیٹی میں زیارت حملے میں شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ بھی شامل تھے۔
6 جولائی کو بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملے میں 27 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ شہداء کے اہلخانہ 9 جولائی سے کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے ہوئے تھے۔
معاہدے کے بعد کمیٹی نے اعلان کیا کہ دھرنا ختم کر دیا گیا ہے، 7 شہداء کی میتیں آبائی علاقوں میں منتقل کر دی گئی ہیں اور کوئلہ پھاٹک کو 10 روز بعد ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ اہلخانہ کا سب سے اہم مطالبہ زیارت اور ہنہ اوڑک واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا تھا۔
5 جولائی کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں مسلح افراد کے حملے میں 5 قبائلی افراد جاں بحق، 8 زخمی اور 11 افراد اغوا ہوئے تھےجبکہ 6 جولائی کو زیارت کے منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس چوکی پر حملے میں 9 پولیس اہلکار موقع پر شہید ہوئے، جبکہ 18 اہلکاروں کو اغوا کے بعد دہشت گردوں نے شہید کر دیاتھا۔
اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جسے آپریشن شعبان کا نام دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق جمعرات تک آپریشن شبان کے دوران 91 دہشت گرد مارے جا چکے تھے۔
حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدے پر بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے دستخط کیے۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے معاہدے پر دستخط کیے۔
بلوچستان حکومت نے معاہدے پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کے اعتراف میں کوئلہ پھاٹک چوک کا نام فوری طور پر “شہداء زیارت چوک” رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
17 جولائی کے نوٹیفکیشن کے مطابق زیارت ضلع میں سرکاری عمارتوں، پولیس اسٹیشنز، تعلیمی اداروں اور صحت مراکز کو بھی شہداء کے ناموں سے منسوب کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹری نے محکمہ داخلہ، تعلیم اور صحت کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ سرکاری اداروں کے نام تبدیل کرنے کا عمل مکمل کیا جائے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق زیارت میں 4 پولیس اسٹیشنز کے نام تبدیل کیے جائیں گے۔ اسی طرح 3 اسکولوں کے نام بھی شہداء سے منسوب کیے جائیں گے جبکہ 2 صحت مراکز کے نام بھی تبدیل کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہداء کے اہلخانہ سے کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع، امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق سرکاری اداروں کو شہداء کے ناموں سے منسوب کرنا انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بامعنی طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے شہداء کی قربانیاں محفوظ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کو جرات، فرض شناسی اور قربانی کا پیغام ملے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور معاہدے کے تمام نکات پر بروقت عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
ہنہ اوڑک حملے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ نے 10 جولائی کو اپنا 5 روزہ دھرنا اس وقت ختم کیا تھا جب 11 مغوی افراد بحفاظت واپس آ گئے تھے۔ تاہم زیارت حملے میں شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ نے اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا۔
معاہدے کے بعد اب کوئٹہ میں 10 روز سے جاری احتجاج بھی ختم ہو گیا ہے۔