‘کامیاب فنکاروں کو خود اوقاتِ کار طے کرنے کا حق حاصل ہے’، بالی ووڈ میں ورک لائف بیلنس اور شوٹنگ آرز پر بحث

بھارتی فلم انڈسٹری بالی ووڈ میں طویل اور تھکا دینے والے شوٹنگ اوقات کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ بڑے اداکاروں اور ہدایتکاروں نے روزانہ کام کے اوقات محدود کرنے کے مطالبے پر مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون نے مبینہ طور پر ایک بڑے فلمی پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، کیونکہ انہوں نے ماں بننے کے بعد شوٹنگ کے اوقات کم کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اس واقعے نے بھارت کی فلم انڈسٹری میں ورک لائف بیلنس کے موضوع پر طویل بحث کو جنم دیا۔

بالی ووڈ میں عام طور پر شوٹنگ کے اوقات 12 سے 18 گھنٹے تک ہوتے ہیں، اور بعض مواقع پر یہ دورانیہ ایک دن سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ تاہم اب کئی فنکار اس روایت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور انسانی بنیادوں پر کام کے اوقات مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کئی اداکاروں، جن میں سنیل شیٹی، کاجل اور رام کپور شامل ہیں، نے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کہ تجربہ کار اور بڑے اداکاروں کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کام کے اوقات خود طے کر سکیں۔

رام کپور کے مطابق جو فنکار کامیابی حاصل کر لیتے ہیں انہیں یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ طے کریں کہ وہ کتنے گھنٹے کام کریں گے، کیونکہ ان کی پوزیشن انہیں یہ انتخاب کرنے کی طاقت دیتی ہے۔

دوسری جانب کچھ فنکاروں اور ہدایتکاروں کا کہنا ہے کہ فلم سازی ایک پیچیدہ عمل ہے جسے سخت وقت کی پابندیوں میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق موسم کی خرابی، تکنیکی مسائل اور بڑے ایکشن سینز کی وجہ سے شوٹنگ کے اوقات میں لچک ضروری ہوتی ہے۔

اداکار علی فضل نے کہا کہ فلم سازی کسی دفتر کی نوکری نہیں، جہاں اوقات کو سختی سے محدود کیا جا سکے، جبکہ اداکارہ چترانگدا سنگھ کے مطابق بڑے بجٹ کی فلموں میں لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے شوٹنگ کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔

فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد کے مطابق بڑے پروجیکٹس میں روزانہ کی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے، جس میں لوکیشن، عملہ اور دیگر انتظامات شامل ہوتے ہیں، اس لیے پروڈکشن ٹیمیں زیادہ سے زیادہ کام کروانے کی کوشش کرتی ہیں۔

تاہم کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسئلہ صرف لاگت نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی ہے، جس کا بوجھ اداکاروں اور تکنیکی عملے پر پڑتا ہے۔

ہدایتکار شیکھر کپور نے اس بات پر زور دیا کہ کام کے اوقات صرف اداکاروں کے لیے نہیں بلکہ پورے عملے کے لیے یکساں ہونے چاہئیں، تاکہ سب کو مناسب ورک لائف بیلنس مل سکے۔

یہ بحث اِس وقت مزید اہم ہو گئی ہے کیونکہ جونیئر فنکار اور عملہ اکثر کمزور پوزیشن کی وجہ سے لمبے اوقات برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

کچھ تجربہ کار فنکاروں کا کہنا ہے کہ لمبے اوقات فلم انڈسٹری کی حقیقت ہیں، جہاں بعض اوقات سین مکمل کرنے کے لیے غیر معمولی وقت بھی دینا پڑتا ہے، جبکہ کچھ اداکاروں کے مطابق یہ ذاتی انتخاب کا معاملہ ہے اور ہر شخص کو اپنی مرضی سے کام کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں