پاکستان میں بیساکھی کی تقریبات میں بھارت سے ہزاروں سکھ یاتری شریک ہوئے

پاکستان میں پیر کے روز ہزاروں سکھ یاتریوں نے بیساکھی کا تہوار عقیدت و احترام کے ساتھ منایا، جو نہ صرف فصلوں کی کٹائی کا تہوار ہے بلکہ سکھوں کے نئے سال کا آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تہوار بالخصوص پنجاب اور شمالی بھارت میں روایتی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

رواں برس پاکستانی حکام نے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو 6,500 سے زائد ویزے جاری کیے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ عام طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزے کا حصول مشکل ہوتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذہبی یاترا کے لیے خصوصی انتظامات موجود ہیں جن کے تحت یاتری مقدس مقامات پر حاضری دے سکتے ہیں۔

بیساکھی کی مرکزی تقریب ننکانہ صاحب میں منعقد ہوئی، جو سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک دیو جی کا جائے پیدائش ہے۔ ننکانہ صاحب لاہور سے تقریباً 75 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

تقریب کا مرکز گوردوارہ جنم استھان تھا، جو ننکانہ صاحب میں موجود نو اہم سکھ عبادت گاہوں میں سے ایک ہے۔ یاتریوں نے مذہبی رسومات ادا کیں، کیرتن میں حصہ لیا، اور بابا گورو نانک کے افکار کو یاد کیا۔

پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے یاتری اس موقع کو نہ صرف مذہبی بلکہ ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں