صرف دو ہفتے شوگر چھوڑنے سے جسم میں آنے والی حیران کن تبدیلیاں،ماہرین کی رائے

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص صرف 14 دن کے لیے اضافی شوگر ترک کر دے تو جسم میں نمایاں مثبت تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ غذائی ماہرین اور ماہرین امراض معدہ کے مطابق شوگر کم کرنے سے چہرے کی سوجن میں کمی آتی ہے کیونکہ انسولین کے باعث پانی کے جمع ہونے کا عمل کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹ اور کمر کے ارد گرد بھی فرق محسوس کیا جا سکتا ہے، چاہے وزن فوری طور پر کم نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق شوگر ترک کرنے سے جگر پر شوگر کا بوجھ کم ہوتا ہے، جو فیٹی لیور کے لیے نہایت اہم ہے، اور آنتوں میں گیس، اپھارہ اور خمیر کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ شوگر چھوڑنے سے جلد کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے، خاص طور پر کیل مہاسوں کی شکایت میں کمی دیکھی جاتی ہے۔

ابتدائی دنوں میں افراد شوگر کی طلب، سر درد، تھکن، چڑچڑاپن اور ذہنی کارکردگی میں کمی محسوس کر سکتے ہیں، لیکن یہ عارضی اثرات ہیں اور کسی نشے کی لت سے متعلق نہیں ہیں۔ یہ دراصل دماغ کے ریوارڈ سسٹم کی نئی ترتیب کا حصہ ہیں۔

چند روز بعد زیادہ تر افراد میں شوگر کی طلب کم، توانائی مستحکم، نیند بہتر اور بے وقت کی بھوک میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے۔ انسولین کے ردعمل میں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے اور فاسٹنگ شوگر بھی مستحکم ہو جاتی ہے۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ یہ عمل وزن گھٹانے کا فوری نسخہ نہیں بلکہ جسم کے میٹابولزم کو بہتر بنانے اور انسولین اسپائکس کو کم کرنے کا قدرتی طریقہ ہے۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کم از کم 14 دن کے لیے اضافی شوگر، خصوصاً پروسیسڈ میٹھی غذاؤں اور مشروبات، سے پرہیز کریں تاکہ جسم پر اس کے فوائد کو محسوس کیا جا سکے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں