میرا بیٹا ماشاءاللہ اب ٹین ایج میں داخل ہو رہا ہے اور ابھی سے میں نے محسوس کیا کہ اس کے رویے میں بہت سی تبدیلییاں آ گئی ہیں۔ وہ بچہ جو کل تک میرے گلے لگ کر بیٹھا رہتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتیں مجھ سے شیئر کرتا تھا۔ میرے ساتھ وقت گزارتا مجھے سامنے نا پا کر مجھے ڈھونڈتا تھا ۔ اب وہ پہلے کی طرح اتنا قریب آنا لپٹنا پسند نہیں کرتا۔ کئی موضوعات پر بات کرنے سے بھی کتراتا ہے۔ حتی کہ گھر سے باہر ساتھ جانے کی بالکل ضد نہیں کرتا بلکہ اپنے آن لائن كهیلوں میں دوستوں کے ساتھ مصروف رہتا ہے ۔
دل میں عجیب سا خلا سا محسوس ہوتا ہے، جیسے میرا بچہ آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہو رہا ہو۔ ٹین ایج کے بچوں كو سنبهالنا مشکل ہوتا ہے ہمیشہ سنا تھا یہ معلوم نہیں تھا ٹین ایج بچوں کی مائیں ایسے اکیلا بھی محسوس کرتی ہیں۔
ایسے میں مجھے خیال آیا کہ یہ صرف میرا ہی تجربہ نہیں ہے ساری دنیا کی مائیں اسے فیس کرتی ہیں تو کیوں نا اس کے بارے میں مزید کچھ پڑھا جائے، سمجھا جائے کہ یہ خوف ناک دور آخر کیسے گزرے گا ۔ میں نے جو آرٹیکلز پڑھے انہوں نے مجھے مزید ڈرایا بھی اور ساتھ ہی اس موضوع پر مزید پڑھنے اور سمجھنے پر بھی مجبور بھی کر دیا ۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ ٹین ایج کے سال والدین اور بچوں کے رشتے کا سب سے نازک وقت ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بچے یا تو وقت کے ساتھ واپس والدین کے قریب آ جاتے ہیں، یا پھر جذباتی طور پر اتنا دور نکل جاتے ہیں کہ پھر واپس آنا آسان نہیں ہوتا۔
یہ سب پڑھ کر میں نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی، کیا کہیں میرا رویہ ایسا تو نہیں جو میرے بچے کو مجھ سے دور کر رہا ہے؟ کیا میں انجانے میں ایک “ٹاکسک ماں” تو نہیں بن رہی؟ یہ سوال میرے دل میں گونجنے لگا۔ اور پھر میں نے اپنے رویے کو جانچنے کے لیے ایک چھوٹی سی چیک لسٹ بنائی۔
یہ چیک لسٹ میں اپنے لیے تو استعمال کر ہی رہی ہوں، لیکن سوچا کہ اسے آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں تاکہ ہم سب مل کر خود کو پرکھ سکیں اور اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھ سکیں۔
1۔ کیا میں اپنے بچے کی بات سنتی ہوں یا صرف اپنی سناتی ہوں؟
میں نے دیکھا کہ بعض اوقات بچے بولتے رہتے ہیں اور ہم ماں باپ صرف سر ہلاتے ہیں یا فوراً اپنی رائے دینا شروع کر دیتے ہیں لیکن بچے چاہتے ہیں کہ ان کی بات پوری توجہ سے سنی جائے۔ جب میں نے یہ بات سمجھی تو میں نے شعوری طور پر کوشش شروع کی کہ بیٹے کی بات کاٹنے کے بجائے آخر تک سنوں اور جب وه بات مکمل کر لے تبھی اس کی رضامندی سے اس کی مدد کروں ۔ وه مجھ سے کیسی مدد چاہتا ہے اس کے لیے خود كو اوپن ركهوں نہ کہ اپنے طور پر اس کے مسائل کا حل پیش کر دوں ۔
2۔ کیا میں بچے کے فیصلوں پر تنقید کرتی ہوں؟
اکثر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ بالکل ویسا ہی کرے جیسا ہم سوچتے ہیں لیکن ٹین ایج میں بچے اپنی رائے رکھنا سیکھتے ہیں، اگر ہر بات پر میں اس پر تنقید کروں اور اپنے طور پر بہتر فیصلہ کیا ہوگا سمجھانے کی کوشش کروں تو وہ مجھ سے چھپنے لگے گا۔ میں نے سیکھا کہ اختلاف کو برداشت کرنا بھی رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔
3۔ کیا میں اپنے بچے کو دوسروں کے بچوں سے موازنہ کرتی ہوں؟
یہ عادت بہت عام ہے، دیسی فیملیز میں تو اکثر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں: “دیکھو فلاں کا بچہ کتنا اچھا پڑھتا ہے” یا “اس کے نمبر تم سے بہتر ہیں”، لیکن یہ تقابل بچے کے اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ بیٹے کو اس کی اپنی شخصیت کے ساتھ قبول کروں۔
4۔ کیا میں بچے کے ساتھ وقت کو کوالٹی ٹائم بناتی ہوں یا صرف ایک روٹین؟
میں نے سوچا کہ کیا میرا اور بیٹے کا وقت صرف ہوم ورک، کھانے اور ڈانٹ ڈپٹ تک محدود ہے یا ہم ہنسی مذاق اور ہلکی پھلکی باتیں بھی کرتے ہیں؟ جب میں نے شعوری طور پر اس کے ساتھ ہنسی مذاق بڑھایا، تو مجھے لگا کہ رشتہ پھر سے نرم اور خوبصورت ہونے لگا۔ میں نے پھر سے اس کے ساتھ اس کے پسندیده کارٹون اور فلمیں دیکھنا شروع کیں ۔ جس سے ہمارا ویک اینڈ خوش گوار ہونے لگا ہے ۔
5۔ کیا میں اپنے بچے کو ہر وقت کنٹرول کرنا چاہتی ہوں؟
اکثر ماں باپ سوچتے ہیں کہ ہر وقت بچے پر نظر رکھنا ضروری ہے لیکن جہاں تک میں نے پڑھا سمجھا اور پھر خود بھی محسوس کیا کہ اعتماد کے بغیر رشتہ نہیں چل سکتا۔ تھوڑی آزادی دینا بھی ضروری ہے تاکہ بچہ اپنی ذمہ داری سیکھ سکے۔
6۔ کیا میں اپنے غصے پر قابو پاتی ہوں؟
ٹین ایجر بچے کبھی کبھی ضدی ہو جاتے ہیں، جواب بھی دیتے ہیں۔ ایسے میں غصہ آنا فطری ہے لیکن میں نے غور کیا کہ جب میں غصہ بڑھا دیتی ہوں تو معاملہ بگڑ جاتا ہے اور جب میں پرسکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں یا اس کی ضد کا سامنا صرف خاموش رہ کر کچھ لمحے گزر جانے دیتی ہوں تو بیٹا خود ہی نرمی دکھاتا ہے۔
آخر میں، میں نے یہ جانا کہ ٹین ایج کا وقت اصل میں ایک امتحان ہے، خاص طور پر ماں کے لیے۔ ہم اگر اس امتحان کو صبر، برداشت اور محبت کے ساتھ گزار لیں تو ہمارے اور بچوں کے درمیان بانڈنگ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ سب چیزیں میں نے خود پر آزما کر دیکھی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ سب بھی اس فہرست میں اپنی جھلک دیکھیں۔ تو آئیے، ہم سب مل کر اپنے آپ کو چیک کریں کہ ہم کہیں ٹاکسک ماں تو نہیں بن رہے۔