گواہی

یہ برطانوی انتداب کے آخری دن تھے ۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ کرتے ہوئے یہاں ایک صہیونی ریاست اور فلسطین کے قیام کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ برطانوی افواج یروشلم پر کنٹرول کھو چکی تھیں اور شہر اب ارگون ، لحی اور ہگانا کے ان صہیونی جتھوں کے رحم و کرم پر تھا جنہیں انتداب کے اس دورانیے میں برطانوی سرپرستی میں منظم اور مسلح کیا گیا تھا۔

یروشلم کے مغرب میں چند کوس کے فاصلے پر دیر یاسین نام کا گاؤں تھا جس کی تمام آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اسی گاؤں نے دو روز پہلے صہیونیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود صہیونی جتھوں نے اسی گاؤں پر دھاوا بول دیا اور قتل عام کیا۔ رات کے آخری پہر دیر یاسین پر حملہ ہوا تھا اور گولیوں کی آوازیں شہر تک آ رہی تھیں۔ قتل عام کے بعد گاؤں کی املاک کو جلا دیا گیا اور آگ کے شعلے مسجد اقصی تک نظر آ رہے تھے۔

باب الخلیل ( یافا گیٹ) کے مشرق میں فصیلوں کے اندر مسلمان آباد تھے اور گیٹ کے باہر مغرب کی سمت میں عیسائیوں کی بستی تھی۔ مسلمانوں کا علاقہ خوف کی وجہ سے خالی تھا اور اس وقت وہاں تمام دکانیں بند تھیں اور اکا دکا لوگ چل پھر رہے تھے۔ فصیل کے باہر عیسائیوں کے علاقے میں ایسٹر کی تیاریاں عروج پر تھیں لیکن دیر یاسین کے قتل عام کی وجہ سے یہاں بھی خوف کا عالم تھا اور زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ۔

اچانک مغربی یروشلم کی جانب سے ایک تیز رفتار ٹرک آیا اور باب الخیل کے عین سامنے آ کر رک گیا۔ اس میں مسلح صہیونی سوار تھے جو وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے ٹرک سے تیس چالیس بچوں کو ٹھڈے ، مکے اور بندوقوں کے بٹ مارتے ہوئے نیچے پھینکا اور فائرنگ کرتے ہوئے ٹرک میں بیٹھ کر تیزی سے واپس چلے گئے۔

لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ یہ دیریاسین سے لائے گئے بچے ہیں اور یہ فصیل کے اندراور مسجد اقصی کے گرد مسلمان آبادیوں کے لیے پیغام ہے کہ دیر یاسین جیسے انجام سے بچنا ہے توپرانا یروشلم صہیونیوں کے لیے خالی کر دو ۔
خوف سے سہمے شہر کی دہلیز پر یہ ننھے وجود بے یارومدد گار پڑے تھے۔

ان میں جو سب سے بڑی بچی تھی اس کی عمر تیرہ سال تھی۔ دو بچے تو ایسے تھے جن کے ہونٹوں سے ماں کی دودھ کی خوشبو بھی ابھی جدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک شیر خوار تو گرتے ہی جاں کی بازی ہار گیا ، دوسرے کی چیخیں فصیل میں شگاف ڈال رہی تھیں۔ دودھ کی بجائے اس کے ہونٹوں پر خون تھا۔

دو سال کے ایک بچے کو چپ سی لگی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ کپڑے لہو سے تر تھے، دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا، خون اس کے ننھے وجود سے ٹپکا تھا یا یہ اس کی ماں کا تھا ۔

چار سال کی ایک بچی کے چہرے پر ایسی خراشیں تھیں جیسے کسی نے بہار کے پہلے پھول کو نوچ دیا ہو۔ وہ سسکتے ہوئے صرف ایک لفظ ادا کر پا رہی تھی : ماں!

پانچ سال کا ایک بچہ تھا، اس کے کپڑے خون سے تر تھے، وہ سکتے کے عالم میں یوں کھڑا تھا جیسے فصیل کا کوئی پتھرنیچے آ پڑا ہو۔

آٹھ سال کی ایک بچی، بال بکھرے ہوئے، کپڑے کی آستین آنسوؤں سے بھیگی ہوئی۔ ہاتھ میں اپنی ٹوٹی ہوئی گڑیا لیے اس پر لگا خون صاف کر رہی تھی۔

سفید فراک میں فرشتوں جیسی ایک بچی ، اس کے کانوں سے رستا خون اب جمنا شروع ہو چکا تھا ۔ شاید اس کی بالیاں نوچی گئی تھیں ۔ اس کی چیخیں اب تھم چکی تھیں ۔ اب اس پر نقاہت غالب تھی۔

کچھ بھوک سے رو رہے تھے ، کچھ خوف سے چلا رہے تھے ۔ ایک بچی رو رو کر چپ ہوتی ، پھر خون دیکھتی اور پہلے سے زیادہ شدت سے رونا شروع کر دیتی۔

سات سالہ ایک بچی نے تین سالہ بھائی کو سینے سے لگایا ہوا تھا ۔ اس کے بھائی کی اداس نظریں ماں کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک کر ناکام لوٹتیں تو وہ بلبلا کر رونا شروع کر دیتا۔ اس کی بہن تڑپ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ، اور پھر خود بھی رو پڑتی۔

آنکھوں میں خوف ، چہروں پر بھوک اور ہونٹوں پر صحراؤں جیسی پیاس ۔ جو قدرے سیانے تھے ، وہ ایک طرف ہو کر دیوار سے لگے کھڑے تھے ، کچھ ننھے وجود تھے جو چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے جیسے مرغی کے بچے بے قراری میں ماں کو تلاش کر رہے ہوں۔

یہ خبر فصیل شہر کو چیرتی لوگوں کے دل میں ترازو ہو گئی کہ ایک کربلا یروشلم کی دہلیز پر اتر آئی ہے ۔ درد ایسا تھا کہ ماؤں کے جگر خالی ہو گئے۔

حند الحسینی کو خبر ملی تو وہ بھاگیں ، ان کے محافظ ساتھ بھاگے۔ حند الحسینی کا تعلق یروشلم کی مسلمان اشرافیہ سے تھا اور ان کا خاندان طویل عرصے سے مذہبی اور سیاسی اثرو رسوخ رکھتا تھا۔ یروشل کی میئر شپ سے لے کر شہر کے قاضی تک کے مناصب ان کے خاندان میں رہے تھے۔ زوال تو آ چکا تھا لیکن گئے وقتوں کی وجاہت ابھی باقی تھی۔

حند الحسینی یافی گیٹ پر اپنی سواری سے اتریں تو وہاں ہجوم تھا۔ انہیں دیکھ کر لوگ احترام سے سمٹ گئے۔ ہجوم میں بچے یوں سہمے ہوئے دیوار سے لگے کھڑے تھے جیسے تیز آندھیوں کے بعد پرندوں کے بچے ٹوٹے گھونسلوں میں پناہ کی کوشش کرتے ہیں ۔ حند الحسینی نے بچوں کی حالت دیکھی تو شدت غم سے لڑکھڑا گئیں ۔ انہوں نے ایک بچی کی طرف ہاتھ بڑھائے ، بچی کو حنس الحسینی کے وجود میں ممتا کی مہک آئی ، وہ بھاگی اور حند الحسینی سے لپٹ گئی۔

یہ قیامت کا لمحہ تھا جس نے حند الحسینی کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے ساری مصروفیات ترک دیں ۔ بچوں کو ساتھ لیا اور دادا کے محل چلی گئیں۔ نہلایا ، دھلایا ، کھلایا ، مرہم پٹی کرائی ، طبیبوں کو محل میں بلا لیا اور بچوں کا علاج شروع ہو گیا۔

محل کا ایک حصہ بچوں کے لیے مختص کر دیا گیا۔ حند الحسینی بچوں کے ساتھ ہی تھیں ، وہ گھر نہیں گئیں ۔ یہ تمام بچے یتیم ہو چکے تھے اور حند الحسینی کو معلوم تھا اب وہی ان سب کی ماں ہیں۔ وہ ان سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

اگلے روز شام کا وقت تھا ، جب اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی کچھ یورپی تنظیموں کا ایک وفد محل میں ان بچوں کی خبر گیری کے لیے آیا۔

حند الحسینی وفد کو محل کے اس حصے میں لے گئیں جہاں بچوں کو رکھا گیا تھا ۔ بچے اس وقت کھانا کھا رہے تھے ، اور کچھ آیائیں ننھے بچوں کو دودھ پلا رہی تھیں۔

اچانک ایک عجیب واقعہ ہوا۔ وفد میں شامل ایک امریکی خاتون کو دیکھ کر ایک تیرہ سالہ بچی دہشت زدہ ہو کر اپنی کرسی سے اٹھی ، بھاگی اور حند الحسینی سے لپٹ گئی۔ اس نے امریکی خاتون کی طرف اشارہ کیا اور چلائی : "قاتل ، قاتل ، یہ قاتل ہے۔” خوف اتنا شدید تھا کہ بچی بے ہوش ہو کر گری اور اس نے وہیں حند الحسینی کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔

معصوم لاشہ وہ ساری کہانیاں بیان کر گیا جو اب تک ان کہی ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں