امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون ’آئی فون ڈوو‘ (iPhone Duo) جمعہ 23 اکتوبر کو فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس نئے فون کی فروخت کے ساتھ ایپل نے فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی عالمی مارکیٹ میں باضابطہ قدم رکھ دیا ہے، جہاں سام سنگ اور ہواوے جیسی کمپنیاں کئی برسوں سے موجود ہیں۔ فون کی ابتدائی طلب توقعات سے زیادہ رہی اور پیشگی آرڈرز شروع ہونے کے چند ہی منٹوں میں ڈیلیوری کی متوقع تاریخ جنوری 2027 کے آخر تک پہنچ گئی۔ ایپل نے صارفین کے ردعمل کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ایک صارف کے لیے زیادہ سے زیادہ دو فونز خریدنے کی حد مقرر کر دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، آئی فون ڈوو کی فروخت آسٹریلیا سے شروع ہوئی، جہاں سڈنی کے ایک ایپل اسٹور کے باہر صبح آٹھ بجے دکان کھلنے سے پہلے ہی خریداروں کی قطاریں لگ گئیں۔ ایک 48 سالہ انجینیئر سائمن کرشنن نے 512 جی بی اسٹوریج والا فون 3,899 آسٹریلوی ڈالر، یعنی تقریباً 2,734 امریکی ڈالر میں خریدا۔ دوسری جانب چین، فرانس، ہانگ کانگ، بھارت اور جاپان میں فون صرف ان صارفین کے لیے دستیاب کیا گیا جنہوں نے پہلے سے آن لائن آرڈر دے رکھا تھا۔ امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، میکسیکو اور یورپ کے بیشتر حصوں میں بھی بغیر پیشگی آرڈر فون خریدنے والوں کے لیے محدود تعداد مختص کی گئی ہے۔
یہ نیا فون ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس کے لیے بھی ایک اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے، جنہوں نے ستمبر میں کمپنی کی قیادت سنبھالی تھی۔ آئی فون ڈوو ان کے عہدہ سنبھالنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ ابتدائی تجزیوں میں فون کے ڈیزائن، مضبوط فولڈنگ نظام اور اسکرین کے درمیان نسبتاً کم نمایاں لکیر کو سراہا گیا ہے۔ تاہم بعض ماہرین نے ٹیلی فوٹو کیمرے کی عدم موجودگی، نئے اسکرین سائز کے مطابق بعض ایپس کی محدود مطابقت اور روزمرہ استعمال میں سہولت سے متعلق تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے معروف تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فون جدید ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھنے والے صارفین کے لیے پُرکشش ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ قیمت اور بعض عملی خامیوں کے باعث ہر صارف کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔
چین میں بھی آئی فون ڈوو کی خریداری کے لیے صارفین کی دلچسپی دیکھنے میں آئی، جہاں شنگھائی میں بعض خریدار صبح سویرے ایپل اسٹورز کے باہر پہنچ گئے۔ ہانگ کانگ میں 256 جی بی ماڈل کی قیمت 17,499 ہانگ کانگ ڈالر، یعنی تقریباً 2,232 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ زیادہ طلب اور محدود دستیابی کے باعث بعض خریدار فون دوبارہ فروخت کرکے منافع کمانے کی بھی توقع کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں فولڈ ایبل فونز اب تک محدود صارفین تک پہنچ سکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایپل کی آمد اس شعبے میں دلچسپی بڑھا سکتی ہے، لیکن اس کا انحصار فون کی دستیابی، قیمت اور صارفین کے عملی تجربے پر ہوگا۔
عالمی مارکیٹ ریسرچ ادارے آئی ڈی سی (IDC) کے مطابق ایپل 2026 میں فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی مجموعی فروخت کی مالیت میں تقریباً 44 فیصد حصہ حاصل کر سکتا ہے، جبکہ فروخت ہونے والے فونز کی تعداد میں اس کا حصہ 31 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ 2027 تک ایپل فروخت کی مالیت اور تعداد دونوں اعتبار سے فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں سرفہرست آ سکتا ہے۔ تاہم یہ اندازے ہیں، حتمی نتائج نہیں۔ ماہرین کے مطابق آئی فون ڈوو کے لیے اصل چیلنج ابتدائی جوش و خروش کو مستقل فروخت میں تبدیل کرنا اور فولڈ ایبل فونز کو عام صارفین کے لیے ایک قابلِ عمل انتخاب بنانا ہوگا۔