بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی جیو پلیٹ فارمز نے ملکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ کمپنی کے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے ابتدائی عوامی حصص، جنہیں آئی پی او کہا جاتا ہے، بدھ 21 اکتوبر کو فروخت کے لیے پیش کیے گئے اور دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ان کے لیے مطلوبہ درخواستیں موصول ہو گئیں۔ یہ بھارت کی تاریخ میں سب سے بڑی ابتدائی حصص فروخت ہے، جبکہ مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کی جانب سے تقریباً 20 سال بعد کسی کمپنی کے حصص پہلی مرتبہ عوامی فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جیو پلیٹ فارمز بھارت کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی کی مالک ہے، جس کے صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے زیادہ ہے۔ کمپنی کے سرمایہ کاروں میں فیس بک کی مالک میٹا اور گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ بھی شامل ہیں۔ جیو نے 2016 میں انتہائی سستے انٹرنیٹ اور مفت وائس کالز متعارف کروا کر بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں بڑی تبدیلی پیدا کی تھی۔ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں کمپنی نے مختصر عرصے میں لاکھوں نئے صارفین حاصل کیے اور ایئرٹیل سمیت دیگر بڑی کمپنیوں کے لیے سخت مقابلہ پیدا کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق، جیو کے ابتدائی عوامی حصص کی فروخت میں سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے اپنے لیے مختص حصص سے تقریباً چار گنا زیادہ درخواستیں جمع کرائیں، جبکہ عام سرمایہ کاروں کے لیے مجموعی حصص کا تقریباً ایک تہائی حصہ مختص کیا گیا ہے۔ کمپنی نے آئی پی او میں فی حصص قیمت 1,065 سے 1,119 بھارتی روپے مقرر کی ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کمپنیوں بلیک راک اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی سمیت کئی بڑے ادارے بھی اس پیشکش میں شریک ہیں۔
جیو پلیٹ فارمز اس حصص فروخت کے ذریعے اپنی مجموعی مالیت 108 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع رکھتی ہے۔ اگر کمپنی اس قدر کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوتی ہے تو وہ بھارت کی بڑی ترین کمپنیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ جیو کے حصص کی باضابطہ خرید و فروخت 28 اکتوبر سے شروع ہونے کا منصوبہ ہے، جبکہ آئی پی او میں درخواستیں جمع کرانے کا عمل جمعہ تک جاری رہے گا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، عام طور پر بھارت میں بڑی کمپنیوں کے آئی پی او ابتدائی دنوں میں سست رفتار ہوتے ہیں، تاہم جیو کی پیشکش میں سرمایہ کاروں کی تیز دلچسپی غیر معمولی ہے۔
جیو کا آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سرمایہ کار ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے منسلک کمپنیوں کی مالیت اور مستقبل کی آمدنی کا محتاط جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ جیو نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی سرگرم ہے، لیکن اس کی 90 فیصد سے زیادہ آمدنی ٹیلی کام کاروبار سے حاصل ہوتی ہے۔ کمپنی نے اپنے حصص کی فروخت کے لیے بھارت میں تہواروں کے موسم کا انتخاب کیا ہے، جبکہ ریلائنس نے رواں ماہ اپنے چار لاکھ سے زیادہ ملازمین کو مقررہ وقت سے تقریباً 15 دن پہلے تنخواہیں بھی ادا کیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جیو کی حصص فروخت کی کامیابی بھارت کی اسٹاک مارکیٹ اور ملک کے بڑے کاروباری گروپوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ایک اہم امتحان ہے۔