امیر العظیم انتقال کر گئے۔ بنو عامر اپنے قیس سے محروم ہو گیا۔
جو جانتا ہے وہ جانتا ہے، جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ جو زمین اوڑھ کر سو رہا ہے، یہ بلند بخت اس زمین کا نمک تھا۔ کوئی عام آدمی نہیں تھا۔
امیر العظیم ان لوگوں میں سے نہ تھے جو جماعت اسلامی کو مقبرہ سمجھ کر اوپر چندہ باکس رکھ کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے جماعت کی نیک نامی کی بنیاد پر اپنی ذاتی کاروباری امپائر کھڑی نہیں کی بلکہ اپنی دنیا خود پیدا کی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں پیاس بجھانے کے لیے اپنے کنویں خود کھودنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے ناخنوں سے اپنے کنویں کھودے اور خود کو سیراب کیا۔ ابتدائے سفر میں زمانے کا سرد و گرم بھی دیکھا اور پھر آسودہ بھی ہوئے۔ اس ساری مسافت میں ان کے دامن پر کہیں دھول نہیں تھی۔ وہ کنول کی طرح اجلے رہے۔
امیر العظیم آزاد فضاؤں کے پنچھی تھے۔ ذات، گروہ، جماعت یا نظریہ انہیں کسی خول میں بند نہ کر سکا۔ ہر مکتب فکر کے لوگوں سے ان کی دوستی تھی۔ انہوں نے سب سے تعلق کو نبھایا۔ ان کے حلقہ احباب میں سب صالحین نہ تھے، گناہ گار بھی تھے، سرخے بھی تھے اور صف کی دوسری جانب کے کئی لوگ بھی انہیں عزیز جاں رکھتے تھے۔ ایک ہی دائرے میں رہنے سے، بھلے وہ نظریاتی ہی کیوں نہ ہو، آدمی کی افتاد طبع محدود ہو جاتی ہے۔ امیر العظیم مگر سراپا وسعت تھے۔
نام ہی کتنا وجیہہ تھا۔ امیر العظیم۔ ایک عرصے تک میں یہی سمجھتا رہا، یہ بھی کوئی منصب ہے۔ جیسے ناظم اعلی ہوتا ہے ویسے ہی کوئی امیر العظیم بھی ہوتا ہوگا۔ اضا خیل میں اجتماع عام تھا۔ میرے ساتھ میرا کزن بھی چلا آیا۔ امیر العظیم صاحب سے ملاقات ہوئی تو مجھ سے سرگوشی میں پوچھتا ہے: ان کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: امیر العظیم۔ بولا: وہ تو مجھے معلوم ہے یہ امیر العظیم ہیں لیکن ان کا نام کیا ہے۔ میں نے کہا یہ ایک ایسا منصب ہے جس پر فائز ہونے کے بعد نام تبدیل ہو جاتا ہے۔ اب یہ امیر العظیم ہی ہیں۔ امیر العظیم پاس ہی بیٹھے تھے، محفل میں قہقہے پھوٹ پڑے۔
میری تو چند ہی ملاقاتیں رہیں، مختصر۔ لیکن ان کے احباب بتاتے ہیں کہ جو کام ان کو سونپ دیا جاتا تھا اس کی یاد دہانی کی حاجت نہیں رہتی تھی۔ کام دوستوں کا ہو یا تحریک کا جب ان کے ذمے لگا دیا گیا تو سمجھیے ہو گیا۔ کام بیچ میں چھوڑنے کے وہ قائل نہ تھے اور اس معاملے میں اپنے اور غیر کا کوئی فرق ان کے ہاں نہ تھا۔ متعدد گواہیاں ہیں، وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں گی اور یاد دلاتی رہیں گی، کیسا بلند بخت شخص تھا، جو نہ رہا۔
سیاست اب ایک طوفان بد تمیزی ہے، امیر العظیم اس مزاج کے آدمی ہی نہ تھے۔ عزتیں اچھالنے اور شعلہ کلامی کا فن انہیں نہیں آتا تھا۔ سیاست کے معروف کرداروں جیسے معروف بھی نہ تھے۔ لیکن ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی یوں لگا جیسے برگد کا کوئی درخت گر گیا ہو۔ ایک ایسا درخت جو جنگل میں ایک گوشے میں چپ چاپ کھڑا تھا، جس کا کوئی شور نہ تھا۔ مگر جب ٹوٹ گرا تو معلوم ہوا کیا حادثہ ہو گیا ہے۔
کچھ لوگ شاید ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا احساس ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ نہیں رہتے۔ پھر پتا چلتا ہے کہ کیا حادثہ بیت گیا۔ اب انہیں ڈھونڈو چراغ رخ زیبا لے کر۔
میرت پاس یادوں کا ایسا کوئی خزینہ نہیں کہ دہراؤں اور محفل خوشبو ہو جائے۔ میری تو چند لمحوں پر مشتمل چند ملاقاتیں ہیں۔ ایک وہ جس کا احوال اوپر بیان کر دیا۔ ایک بار جناب خورشید ندیم کے ساتھ لاہور میں امیر العظیم صاحب کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔ کبھی فون پر بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ لیکن ان کے انتقال نے سوگوار کر دیا۔ دکھی کر دیا۔
شاید ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں سے آپ کی روح ایک تعلق میں بندھ جاتی ہے۔ یہ احترام کا ایک تعلق ہوتا ہے۔ یا شاید کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی محبت اور احترام اللہ آپ کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ آپ سے فاصلے پر بھی ہوں تو تاروں کی طرح لگتے ہیں، لو دیتے رہتے ہیں۔
پھر ایک روز وہ تارا ٹوٹ جاتا ہے، پھر تاریکی ہو جاتی ہے۔