ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ورزش کرنا کافی نہیں ہو سکتا اگر آپ طویل وقت تک صوفے یا ڈیسک کے سامنے بیٹھے رہیں تو اس کے منفی اثرات سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جسمانی سرگرمی سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اضطراب و ڈپریشن کم ہوتے ہیں۔ لیکن نئی تحقیق کے مطابق، عمر رسیدہ افراد کے لیے صرف باقاعدہ ورزش کرنا الزائمر کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہیں — انہیں بیٹھنے کے وقت کو بھی کم کرنا ہوگا۔
یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی نیورولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کی مرکزی مصنفہ، ڈاکٹر ماریسا گوگنیات کہتی ہیں، “اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ جسمانی طور پر فعال ہیں تو سب ٹھیک ہے۔” تاہم، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیٹھنے کے وقت کا اثر بھی ورزش کے باوجود الزائمر کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔
تحقیق میں تقریباً 400 افراد شامل تھے جو 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے، جنہیں 10 دنوں تک 24 گھنٹے جسمانی سرگرمی ماپنے والی گھڑی پہنائی گئی۔
نتائج سے پتہ چلا کہ جو لوگ زیادہ وقت بیٹھے رہتے تھے ان میں یادداشت اور ذہنی صلاحیت میں کمی اور دماغی خلیات کی خرابی زیادہ تھی، چاہے وہ کتنی بھی ورزش کر لیتے ہوں۔
کتنی دیر بیٹھنا زیادہ ہے؟
محققین نے بتایا کہ شرکاء روزانہ اوسطاً تقریباً 13 گھنٹے بیٹھے رہتے تھے، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنی دیر بیٹھنا بالکل نقصان دہ ہے۔
کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر کارلی کارنش کا کہنا ہے کہ “کوئی جادوئی حد نہیں ہے کہ بیٹھنے کا کتنا وقت بہت زیادہ ہے۔”
تاہم، جتنا زیادہ آپ بیٹھیں گے، آپ کی عضلات اتنی ہی کمزور ہوں گی، جس کی وجہ سے جسمانی سرگرمی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ “میں ہمیشہ اپنے مریضوں سے کہتی ہوں، اگر آپ اسے حرکت نہیں دیں گے تو آپ اسے کھو دیں گے۔”
بیٹھنے کا وقت کم کرنے کے لیے مشورے
ڈاکٹر کارنش تجویز کرتی ہیں کہ ہر گھنٹے میں تھوڑی دیر کے لیے حرکت کریں، چاہے چند منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ مثلاً ٹی وی کے کمرشل بریک کے دوران جگہ پر چلنا یا اسٹریچ کرنا۔
اچھی صحت برقرار رکھنے کا مطلب صرف ورزش نہیں بلکہ متحرک رہنا، کم بیٹھنا، صحت مند غذا کھانا، سگریٹ نوشی سے پرہیز کرنا اور دماغی سرگرمیوں میں مشغول رہنا بھی ہے، جو مل کر ایک صحت مند زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔