ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کے اہداف کے لیے خلائی ٹیکنالوجی قومی حکمت عملی کا اہم ستون ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، احسن اقبال نے قومی خلائی سمپوزیم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کے منصوبے کے تحت خلائی ٹیکنالوجیز کو قومی حکمت عملی کا حصہ بنا رہی ہے، جو جدید تحقیق کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی نگرانی، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ جیسے اہم شعبوں میں معاون ثابت ہوگی۔

تقریب میں سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان، سابق چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر ندیم، اور دیگر نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کی اقتصادی ترقی کا راستہ ہموار کرے گا اور ’’اُڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں یکساں ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، اور انہیں عالمی معیار کے مطابق تحقیق اور اختراعات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’ڈیجیٹلائزیشن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور تحقیق میں بہتری لا کر ہی عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہوا جا سکتا ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔

خلائی تحقیق، ایک نیا اقتصادی افق

احسن اقبال نے کہا کہ خلائی تحقیق اب تجارتی بنیادوں پر بھی استعمال کی جا رہی ہے، جو پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، وسائل کی مؤثر نگرانی، اور اقتصادی ترقی کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو قومی معیشت میں بنیادی حیثیت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن پاکستان کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل کرنا ہے، اور اس کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ پالیسیوں کا نفاذ ضروری ہے۔ ’’آج ہماری آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہی ہم دنیا میں اپنی جگہ مضبوط بنا سکتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی نہ صرف ملکی ترقی کا ذریعہ بنے گی بلکہ یہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے سپارکو کی کاوشوں کو سراہا اور حکومت کی جانب سے ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کے اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

خلائی سمپوزیم نے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں شرکاء نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کو درپیش ترقیاتی چیلنجز کے حل پر تبادلہ خیال کیا۔ اجتماعی عزم اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ، پاکستان ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں