ہمارے ایک خودکار اے ائی ایجنٹ نے ٹیسٹ کے دوران دوسری اے آئی کمپنی کو ہیک کیا، اوپن اے آئی کا انکشاف

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کے 2 جدید اے آئی ماڈلز کے ذریعے چلنے والا ایک خودکار ایجنٹ اندرونی سائبر ٹیسٹ کے دوران طے شدہ ماحول سے باہر نکل کر ایک اور اے آئی کمپنی “ہگنگ فیس” کے سرورز تک پہنچ گیا۔

اوپن اے آئی نے اس واقعے کو “غیر معمولی سائبر واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک داخلی مشق کے دوران ہوا، جس کا مقصد ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیسٹ میں نئے ماڈل جی پی ٹی 5.6 سول اور ایک غیر جاری شدہ، زیادہ طاقتور ماڈل کو استعمال کیا جا رہا تھا۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے دوران عام حفاظتی پابندیاں کم رکھی گئی تھیں، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ماڈلز پیچیدہ سائبر راستوں کو کس حد تک سمجھ اور استعمال کر سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق ماڈلز نے پہلے اوپن اے آئی کے تحقیقی ماحول میں خامیاں تلاش کیں، پھر ان خامیوں کو استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی۔ اس کے بعد ایجنٹ نے ہگنگ فیس کے نظام میں داخل ہونے کے لیے چوری شدہ لاگ اِن تفصیلات اور پہلے سے نامعلوم سکیورٹی خامیوں کا استعمال کیا۔

اوپن اے آئی کے مطابق ایجنٹ کا مقصد کسی بڑے حملے کے بجائے ٹیسٹ کے جواب تلاش کرنا تھا، مگر اس نے یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے انتہائی غیر معمولی راستہ اختیار کیا۔ ہگنگ فیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے اپنی پروڈکشن انفراسٹرکچر کے ایک حصے میں غیر مجاز رسائی کا پتا چلایا اور اسے روک دیا۔

کمپنی کے مطابق محدود داخلی ڈیٹا سیٹس اور کچھ اسناد تک رسائی کے شواہد ملے، تاہم عوام کے سامنے موجود ماڈلز، ڈیٹا سیٹس یا اسپیسز میں چھیڑ چھاڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ہگنگ فیس کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ اسناد تبدیل کر دی ہیں، کمزور راستے بند کر دیے ہیں اور سکیورٹی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ کمپنی کو پہلے ہی شبہ تھا کہ یہ کارروائی کسی بڑی اے آئی لیب سے جڑے انتہائی جدید ایجنٹ کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ یہ سب کچھ خودکار طور پر ہوا، تاہم ان کے خیال میں اوپن اے آئی کی نیت بری نہیں تھی۔

امریکی رکن کانگریس گریگ کاسار نے واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر اسے محفوظ رکھنے کے لیے ضابطے اتنی تیزی سے موجود نہیں۔ انہوں نے آزادانہ سکیورٹی ٹیسٹنگ، سائبر واقعات کی لازمی رپورٹنگ اور عالمی تعاون کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ طاقتور اے آئی ماڈلز مستقبل میں سائبر حملوں کو تیز، پیچیدہ اور زیادہ خودکار بنا سکتے ہیں۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ہگنگ فیس کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور مستقبل کے ٹیسٹس، نگرانی، رسائی کے کنٹرولز اور حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں