افغانستان اور ازبکستان کے درمیان فضائی راستے سے تجارت کا معاہدہ طے پا گیا

پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور سرحدی راستوں کی بندش کے بعد افغان عبوری حکومت نے ازبکستان کے ساتھ ایک نیا تجارتی راستہ کھولنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ افغان حکام کے مطابق ازبکستان کے ساتھ افغان زرعی مصنوعات کی فضائی برآمدات کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ہیں۔

بلخ کے طالبان گورنر کے ترجمان حاجی زید نے بتایا کہ اب انار، انجیر، سبزیاں اور دیگر موسمی پھل ازبکستان کے فضائی راستوں کے ذریعے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور یورپ تک پہنچائے جائیں گے۔ ان کے مطابق فضائی برآمدات سے متعلق تمام ضروری معاہدے طے پا چکے ہیں۔

حاجی زید کا کہنا تھا کہ افغان تاجروں نے گوشت کی برآمدات بھی ازبکستان کو شروع کر دی ہیں اور طالبان حکام ازبکستان کے فضائی راستے کو تاجروں کے لیے ایک قابل اعتماد متبادل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ جھڑپوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام بارڈر کراسنگ بند کر دی گئی ہیں، جس نے تاجروں اور عام شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

بدھ کو طالبان نے افغان تاجروں کو مشورہ دیا کہ وہ تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے پاکستان پر انحصار کم کریں اور متبادل راستے تلاش کریں۔

تاجر حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے باوجود پاکستان، افغانستان کا سب سے قریبی تجارتی راستہ ہے۔ دونوں ممالک کو تجارت کو سیاست سے الگ رکھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔ افغانستان اور پاکستان اقتصادی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور تجارتی تعلقات کو سیاسی تنازعات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں