افغانستان میں مرد کا بھیس بدل کر سائیکلنگ کی مشق کرنے والی فریبا ہاشمی نے ایشین گیمز میں سلور میڈل جیت لیا

افغانستان کی 23 سالہ سائیکلسٹ فریبا ہاشمی نے جاپان میں جاری ایشین گیمز کے خواتین روڈ ریس مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے سلور میڈل جیت لیا۔ ایشین اولمپک کونسل کے مطابق یہ موجودہ ایشین گیمز میں افغانستان کا پہلا تمغہ بھی ہے۔

فریبا نے کم عمری میں اپنی بہن یلدوز ہاشمی کے ساتھ سائیکلنگ شروع کی تھی۔ ان کے مطابق افغانستان میں خواتین کے سائیکل چلانے کی شدید مخالفت کے باعث وہ اپنی شناخت چھپاتیں، فرضی نام استعمال کرتیں اور بعض اوقات مردوں جیسے کپڑے پہن کر تربیت کرتی تھیں۔ دونوں بہنوں پر پتھر اور بوتلیں پھینکے جانے کے واقعات بھی پیش آئے۔

اٹلی میں مقیم فریبا ہاشمی نے ناگویا کے قریب ہونے والی ریس میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ کامیابی کے بعد انہوں نے اسے اپنی زندگی کا خاص لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایشین گیمز میں پوڈیم تک پہنچنے اور اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا خواب لے کر آئی تھیں۔
فریبا اور یلدوز 2020 میں افغانستان کی قومی خواتین سائیکلنگ ٹیم میں شامل ہوئیں۔ 2021 میں طا-لبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دونوں افغانستان سے نکل کر اٹلی منتقل ہوگئیں، جہاں فریبا اب رہائش اور تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

فریبا نے اپنی کامیابی کو افغان خواتین کی ثابت قدمی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ مستقبل میں افغان لڑکیاں خوف کے بغیر اپنے ملک کی نمائندگی کرسکیں۔ وہ اپنی بہن کے ساتھ پیرس اولمپکس میں بھی حصہ لے چکی ہیں اور اب ان کی نظریں 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس پر ہیں۔

ایشین اولمپک کونسل کے مطابق فریبا ہاشمی 2002 کے بوسان ایشین گیمز کے بعد افغانستان کے لیے ایشین گیمز کا تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی میں مدد پر جاپانی سائیکلنگ ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے مقابلے کے دوران ان کی سائیکل کی تیاری اور مرمت میں معاونت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں