پاکستانی فائٹر منیشہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں شاندار فتح کے ساتھ گولڈ میڈل جیت لیا

پاکستان کی مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر منیشہ علی نے انگولا کے دارالحکومت لوانڈا میں ہونے والے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔ انہوں نے فائنل مقابلے میں میزبان ملک انگولا کی لیونیلا ازابیل بلائی کو دوسرے راؤنڈ میں سبمیشن کے ذریعے شکست دی۔

پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے مطابق دوسرے راؤنڈ کے اختتام میں صرف 30 سیکنڈ باقی تھے جب انگولن فائٹر نے مسلسل حملے شروع کیے۔ منیشہ علی نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کو اسٹینڈنگ گیلوٹین میں جکڑ لیا اور راؤنڈ ختم ہونے سے تقریباً 15 سیکنڈ قبل مقابلہ اپنے نام کر لیا۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی منیشہ علی لاہور کے بریو جم میں تربیت حاصل کرتی ہیں۔ کامیابی کے بعد وہ جذباتی ہوگئیں، جبکہ ان کی بہن ملیحہ بھی مقابلہ دیکھنے کے لیے موجود تھیں اور انہیں سپورٹ کر رہی تھیں۔

آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں دنیا بھر سے 15 اعلیٰ درجے کی ٹیموں نے شرکت کی، جن میں متعدد نمایاں امیچر مکسڈ مارشل آرٹس فائٹرز شامل تھے۔ منیشہ کی کامیابی نے پاکستان کو بین الاقوامی ایم ایم اے مقابلوں میں اہم کامیابی دلائی ہے۔

منیشہ علی نے کہا کہ انہیں اپنی تربیت اور کوچ عمر احمد کی رہنمائی پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کے مطابق ایک سال سے بھی کم عرصے میں انہوں نے بطور فائٹر نمایاں ترقی کی ہے، تاہم یہ کامیابی ان کے سفر کا صرف ایک مرحلہ ہے۔

اب منیشہ علی کی اگلی توجہ پاکستان اوپن پر ہوگی، جس کے بعد وہ یکم نومبر سے جارجیا میں شروع ہونے والی آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں عالمی ٹائٹل کے لیے مقابلہ کریں گی۔ ان کا ہدف آئی ایم ایم اے ایف کی عالمی چیمپئن بننا اور یو ایف سی میں پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون فائٹر بننا ہے۔

پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے سربراہ عمر احمد نے منیشہ کی کامیابی کو پاکستان میں اس کھیل کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی اور پالیسی مشکلات کے باوجود جب کوئی پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر پوڈیم پر پہنچتا ہے تو تمام کوششیں معنی خیز محسوس ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں