پہلے تینوں کھاواں کہ تیری ڈاچی نوں!!

پاپا جی مجھے کئی بار اپنے بیٹ مین اور اس کے منہ بولے بھائی کی کہانی سناتے ہیں۔

آپ بھی سنیے ۔

بیٹ مین( ہم ارشد نام فرض کر لیتے ہیں) ارشد میجر یعصوب کے ساتھ کافی عرصہ رہا،اس کے بعد وہ میرے پاس آ گیا تھا۔اس کے( منہ بولے) بڑے بھائی فتح محمد بے روزگار تھے تو ارشد نے مجھے اور میجر یعصوب دونوں سے کہا ہوا تھا کہ بھائی کی کچی ،پکی نوکری لگوا دیں۔

ہم شام کو اکثر میس میں بیٹھتے تھے اور گپ شپ کرتے تھے۔میجر صاحب میرے قریبی دوست تھے۔ہم نے یہ طے کیا کہ ارشد کے بھائی کو یعصوب صاحب کے گھر زاتی طور پہ مالی رکھوا دیتے ہیں( میجر صاحب خود بھی سرگودھا سے تھے) اور اس کی سیلری ہم دونوں پیٹی بھائی مل کر دیتے رہیں گے۔ایک غریب کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا ۔

ہم نے مشترکہ اسے نوکری پہ رکھ لیا۔تین ماہ تک بہت خوش اسلوبی سے مالی اپنا کام کرتا رہا اور ہر جگہ ارشد کی تعریف کرتا رہا۔لوگ اس کی زبانی ارشد کی تعریفیں سن کر اسے پیر سیال سمجھنے لگ جاتے تھے۔۔۔۔
اس کے تین ماہ بعد میری پوسٹنگ کراچی ہو گئی۔میں تھوڑا دبنگ اور ریزرو آفیسر تھا اس لیے عمومآ میرے ہوتے حالات بہتر رہتے تھے جب کہ یعصوب صاحب جلدی فری ہونے والے بندے تھے،کئی بار قریبی کم رینک والے لوگوں سے ان کی بے تکلفی انہیں تکلیف دہ حالات کا سامنا بھی کروا دیتی تھی۔یہاں بھی یہ ہی ہوا۔بے تکلفی نے رنگ دکھایا اور کہانی الٹ گئی۔

چھ ماہ بعد مجھے ارشد کا ٹیلی فون آیا۔
سر مجھے کہیں نوکری لگوا دیں….

میں حیران ہوا کہ یہ تو یونٹ بیٹ مین تھا،اسے کیوں نکالا گیا!

اگلی کہانی مجھے صوبیدار اکرم نے سنائی۔

"فتح محمد عرف لالا پھتو جب میجر صاحب کے گھر نوکری پہ مامور ہوا تو اسے یہ چیز کھلنے لگی کہ ارشد کی سیلری زیادہ ہے،وہ اور اس کے بچے بھی سرکاری کوارٹر میں صاحب کے ساتھ رہتے ہیں،اسے میڈیکل،میس سب فری ہے وغیرہ ۔۔۔۔سی ایم ایچ سرگودھا میں ارشد کی بیوی کا فری علاج آخری کیل ثابت ہوا اور لالے پھتو نے میجر صاحب کے کان بھرنا شروع کر دئیے۔ایک وقت وہ آیا کہ لالے پھتو نے تین چار جز وقتی مالی ساتھ ملا لیے اور یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ارشد کی سرگرمیاں غلط ہیں اور غلط عناصر سے ملا ہوا ہے۔اینڈ یہ لگا کہ بے چارے ارشد کو معہ ثبوت کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ سابقہ ریکارڈ کی بنا پہ سزا میں کمی ہوئی اور اسے جیل نہ ہوئی۔صرف نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔لیکن کسی قسم کے واجبات نہیں دئیے گئے ۔

مجھ سمیت آفیسرز میس کا ہر فرد ارشد کی گواہی دے سکتا تھا لیکن زمینی حقائق اس قدر خلاف کر دئیے گئے تھے کہ بے چارہ ارشد دو وقت کی روٹی سے بھی گیا۔

لالے پھتو کی کارستانی میں جو ٹولہ شریک تھا،اسی نے یہ سازش تیار کی تھی۔

بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔

آخر یہ ٹولہ پکڑا گیا۔

ارشد کہتا تھا،’صاحب مجھے کیا پتہ تھا میں نے آستین میں سانپ پال رکھے ہیں۔جہاں میں تھا،میں نے ہمدردی میں لالے پھتو کو وہاں ایڈجسٹ کروایا تھالیکن اسی پھتو نے پھر میری جگہ بیٹھ کر میرے خلاف سازش کر کے مجھے نکلوا دیا’۔

ارشد آج کل سعودیہ ہوتا ہے۔لیکن وہ کسی بھکاری کو بھیک تک نہیں دیتا کیونکہ اس نے ایک بھکاری کو بھیک دے کر اپنا انجام دیکھ لیا تھا۔
ہمارے ارد گرد بھی کئی پھتو موجود ہوتے ہیں۔ہم ان پہ احسان کرتے ہیں لیکن وہ احسان فراموشی کی حد کر دیتے ہیں۔اپنی جگہ بھول کر،اپنی اوقات بھول کر وہ اپنے محسنوں کو ہی ڈسنے لگ جاتے ہیں۔

اور میری دادی اماں یہ واقعہ سن کر کہا کرتی تھیں ٫٫ارشد اس کلموہے آں ای نئیں آکھیا کہ ہلے تے نواں وچ کھلا ای؟(ارشد نے اس کلموہے کو یہ نہیں کہا کہ ابھی تو میرا کھلایا رزق تمہارے ناخنوں میں کھڑا ہے٬٬؟)

پنجابی لوک کہانیوں میں بھی ایک کسان ایک سانپ کو شدید سردی سے بچا کر اپنی اونٹنی پہ گھر لا کر آگ کے قریب بٹھا کر احسان کرتا ہے۔

اور سانپ تو سانپ ہوتا ہے

اس کی آنکھیں کھلیں تو اس نے کہا’ہاں بھئی۔۔۔۔پہلے تینوں کھاواں کہ تیری ڈاچی نوں؟؟؟’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں